فرق تو پڑتا ہے nnاس نےمغرب کی نماز کے بعد دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دئیے سمجھ ہی نہ آیا کہ کیا مانگے ، پیسے مانگے نہیں جاتے ، گناہ سے اللہ بغیرمانگے بچائے جا رہا تھا، نوکری مجبوری نہیں تھی ، اور شادی ضروری نہیں ۔۔ خالی ہاتھوں میں عافیت بھر کے منہ پر مل لی ۔۔ مسجد سے نکلنے لگا پیچھے سے ایک آواز آئی ۔۔ برادر ایک لمحے کو بات سننا گوارا کریں گے ۔۔ ؟ nدیکھا تو جوان سال شخص ہاتھوں میں عطر لیے کھڑا تھا۔۔ پھر وہی پرانی کہانی n”بے روزگار ہوں ، وبئی سے آیا ہوں ، عطر کا کاروبار تھا ، بزنس ٹھپ ہوگیا ، وغیرہ وغیرہ “۔۔ دعا گو سمجھا کہ اللہ نے ضرورت پوری کرنے کے بجائے ضرورت مند ہی بھیج دیا۔۔ شاید عافیت کی ہی کوئی شکل ہوتی ہے یہ کہ آپ دنیا کی محتاجی کو تج دیں تو اللہ دنیا کو آپ کے پاس ضرورت مند بنا کر بھیج دیتا ہے۔۔ اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا ۔ خالی ، بینک میں چیک کیا خالی ، عطر والے سے کہا آپ صبح نو بجے اسی مسجد کے گیٹ پر ملیں میں آپ کو ایک صاحب کے پاس لے چلوں گا ، یا تو وہ نوکری کا انتظام کردیں گے یا پھر آپ کے لیے کچھ چارہ گری ہی ہوجائے گی ۔۔ nصبح نو بجے دونوں بلوچ کالونی پر واقع oasis international کے دفتر میں موجود تھ ۔۔ ایک صاحب سے ملاقات طے تھی ۔ انہوں نے کہا تھا کہ عطر والے کو صبح آفس لے آنا ۔۔ملاحظہ کیجئے ایک senior or executive لیول کا بندہ ایک عام سے شخص کی کال کا جواب دیتا ہے اور کہتا ہے کہ عطر والے کو صبح آفس لے آنا ۔۔ یہاں تو کارپوریٹ لائف کی گردن کا سریا اور کالر کا کلف ہی نہیں مرتا ۔۔ لیکن نہیں جناب ، ہمارے ایوب انکل ایسے نہیں تھے ۔ انہوں نے تھوڑی انویسٹیگیشن کے بعد یہ ثابت کردیا کہ عطر والا ناظم آباد کی بیک سائڈ پر واقع ایک پٹی کا رہائشی جسے ایوب انکل مذاق میں فراڈ آباد کہا کرتے تھے ۔۔ اور یہ پوری پٹی کا کام یہی ہے کہ مسجدوں میں مستحقین کا حق ماریں ۔۔ میں دیکھتا رہ گیا کہ کس طرح اس بندے کی جاب کی کہانی کو ماں کے کینسر پر منتج کردیا تھا یہ ثابت ہوگیا کہ ایوب انکل جیسے گوہر نایاب جو دوسروں کی مدد کرنے کےلیے پیش پیش رہا کرتے تھے کس طرح انہوں نے ہہ سمجھا دیا کہ دیکھو میں مل بھی لیا وقت بھی دے دیا اور مستحقین کا حق مرنے سے بچا لیا ۔۔اس بے ضرر انسان کو مبینہ طور پر جن لوگوں نے شہید کیا تھا وہ کیفر کردار کو پہنچ چکے لیکن ان قاتلوں کے جانے سے شاید کسی کو فرق نہ پڑے لیکن ایوب انکل جیسے تھوڑے بھی ہوں اور وہ نہ رہیں تو فرق تو پڑتا ہے ۔۔ فیملی کا خلا اپنی جگہ لیکن جن گھروں کے چولہے بجھیں ان کا حساب کون سنبھالے گا ۔۔ اللہ ایوب انکل کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے ۔۔ ابھی ان کے بیٹے کی وال دیکھی تو یہ واقعہ یاد آیا ۔ nn#ayubali

اترك رد