ایک چھوٹی سی مثال ، جو بندہ خود کچھ نہیں کرسکتا ، خود کو تبدیل نہیں کرسکتاکیوں کہ خود کو تبدیل کرنا مشکل کام ہے اور اس کے بعد ، اپنےarea of influence کو چینج نہیں کرسکتا۔وہ ایسا ہی ہے ، جیسے کوئِ معذور ہو اور اسے بیساکھیاں چاہئیے ہوں ۔اسی کو مسیحا کا انتظار ہوتا ہے کہ کوئِ آئے گا اور چھڑِی گھما دے گا اور سب ٹھیک ہوجائے گا تو میں بھی صحیح ہوجاوں گا– یہ اس کا denial modeہوتا ہے ، راہ فرار ہوتا ہےاس کی وجہ یہی ہے کہ ، ہم نے خود ٹھِیک نہیں ہونانہ اپنی اولاد کو کرنا ہے نہ اپنے سے بڑوں کی کسی غلط چیز کو نہی عن المنکر کرنا ہے کیوں کہ ، پھٹو ہیں کمزور ہیں بزدل ہیں ، کمفرٹ زون سے نکلنا نہیں چاہتے conflict سے بچنا ہے لیکن یہ چاہتے ہیں کہ ، کوئِ آجائے اور ہم گھر بیٹھے رہیں بس وّوٹ ڈال کر احسان کردیں کہ جی ہم نے پاکستان کے لیے کچھ کیا لول ، اور جو آئے وہ صحیح کردے…یہ اپنے گھر میں تو ایک چھوٹے سے خاندان میں تو کسی غلط کو غلط کہتے ڈرتے ہیں کہ تنازعہ ہوگا لیکن ، جھنڈا انہوں نے امت مسلمہ کا لینا ، سوری اٹھانا ہے —

اترك رد