یہ کائنات بڑی دلچسپ ہے ۔۔ اس کائنات میں موجود ہر مخلوق خصوصا ہم انسان اور ان کی زندگیوں کی مثال ایسی ہے جیسے چھ ارب ہال ہیں اور چھ ارب انسان ۔۔ ایک انسان کے لیے ایک ہال ۔۔ ہر ہال کے ان گنت دروازے ہیں جن کو ہم موقع یا قسمت کہتے ہیں ۔۔ اب صورتحال کچھ اس طرح ہے وہ ان گنت دروازے ایک دوسرے سے ایک خا ص میکینیزم کے تحت جڑے ہوئے ہیں کچھ دروازوں کو کھولنے کے لیے ضروری ہے کہ کچھ دروازوں کو بند کیا جائے یہ سارے دروازے یا مواقع نہ ایک ساتھ کھلتے ہیں نہ بند ہوتے ہیں اب ایک بند ہوگا تو مزید دس کھلیں گے لیکن ان کے کھلنے اور بند ہونےکے لیے کچھ وقت درکار ہوتا ہے ۔ وہ وقت مشیت ایزدی کہلاتا ہے ۔۔ اور وہ سارے دروازے دوسرے ہال کے انگ گنت دروازوں سے بھی منسلک ہیں یعنی ایک دروازہ جو ہمارے لیے بند ہو رہا ہے ہوتا ہے وہ دوسرے کے لیے کھل رہا ہوتا ہے ۔۔ ایسا ہی کچھ گھن چکر ہے لیکن قانون ہے، قدرت ہے سو ہم مکینزم سے نہیں لڑ سکتے ۔ اب ظاہر ہے جب ایک دروازہ دس دروازوں کو کھولے گا اور وہ آپس میں منسلک بھی ہیں اور دوسرے ہالز کے دروازں سے بھی جڑے ہوئے ہیں ۔ تو وہ دس اور دروازوں کو بند بھی کرے گا اور اسی طرح کچھ کو کھولے گا بھی ۔۔ تو جو دروازہ آپ کی طرف کھل رہا ہوگا وہ دوسرے کے لیے بند ہو رہا ہے ۔اسی طرح جو دروازہ آُپ کے لیے بند ہو رہا ہوگا ۔۔ وہ کسی دوسرے کے لیے کھل رہا ہوگا ہے نا ؟۔ اس پورے عمل کو ہم خدا کی رضا بھی کہتے ہیں جیسا کہ پہلے ذکر کیا۔،عجیب بات ہے ناایک طرف مشیت ایزدی بتدریج آپ کے لیے موقع بنا رہی ہوتی ہے جبکہ آپ اسے قسمت کا انتقام سمجھ کر گالیاں دے رہے ہوتے ہیں اور مصلحت خدا وندی ہم پر مسکرا کر چپ چاپ اپنا کام کیے جا رہی ہوتی ہے ۔۔آنسہ کے ہونٹوں پہ بھی ایسی ہی مسکراہٹ جھلملارہی تھی—

اترك رد