فرقہ پرست

خالی جگہ پر کریں ۔خبردار: فرقہ پرست افراد اور جمعراتی قسم کے مولوی اس پوسٹ سے دور رہیں تو بہتر ہے یہ خالص علمی پوسٹ ہےاس لیے فسادی اور انتشار پھیلانے والے افراد سے نائن زیرو کی زبان میں بات کی جائے گی ۔۔اس تنبیہ کا مقصد صرف ہے ۔ اپنا فرقہ وارانہ ذہر کہیں اور جا کر اگلو یہاں نہ اپنا وقت برباد کرو نہ دوسروں کے دماغ کی چٹنی کرنے کی ضرورت ہے ۔خیر تو ہوا کچھ یوں کہ آج جمعے کی نماز کے دوران ایک صاحب رکوع میں آکر جماعت میں شامل ہوئےاور ظاہر ہے قدرتی طور پر جلدی جلدی میں کندھے سے کندھا ملانا اور صف کا خلا بھرنا شاید یاد نہیں رہا۔ادھر امام صاحب نے سمع اللہ لمن حمدہ کہا اور ادھر ہم نے ٹانگ مزید پھیلا کر [اہل حدیث اسٹائل میں]عجلت زدہ صاحب اور اپنے درمیان جو خلا تھا اس کو پرکردیا دیا تاکہ ہمارے پہلے سے پھرے ہوئے دل مزید نہ پھیر دئے جائیں ، خیر خلا کو Compesate کرنے کے چکر میں تھوڑی مشکل تو ضرورہوئی کیوں کہ عادت نہیں اتنی زیادہ ٹانگیں کھولنے کی لیکن جیسے تیسے نماز مکمل کر ہی لی ۔ امام صاحب نماز پڑھاتے رہے اور ہمیں بچپن کا ایک واقعہ یاد آگیااور وہ یہ کہ ایک صاحب اسکول میں ہم سے دو سال جونئیر تھے۔ ایک بار وہ کہنے لگے کہ اسلامیات کے سبق کے دوران ان کے استاد نے نماز میں قیام کے دوران پاوں کے گیپ اور فاصلے کی پیمائیش بتاتے ہوئے کہا کہ بھائِ اتنا گیپ کافی ہے کہ ٹانگوں کے بیچ سے بکری کا بچہ گزر سکے ظاہر ہے استاد صاحب نے یہ مثال فاصلے کی پیمائیش سمجھانے کے لیے دی تھی لیکن ان جونئیر صاحب مذاقا یہ سوال اٹھایا کہ سر اگر وہ بکری کا بچہ ٹانگوں کے بیچ سے گزرتے ہوئے سر اوپر اٹھا لے ۔۔ خیر آگے کا واقعہ یاد نہیں لیکن اتنا پتہ ہے کہ اس حرکت کی وجہ سے اسلامیات کا وہ لیکچر عامر لیاقت کےشو میں تبدیل ہوگیا تھا یعنی مذہبی تفریح یا تفریحا مذہب ۔۔ تو جناب آج جمعے کی نماز کہ دوران یہ واہیات لطیفے نما واقعہ ہمیں بھی یاد آگیا۔ لیکن کوشش کر کے ذہن میں یہ نکتہ پیدا کرنے کی کوشش کی کہ اگر ہم سب حسب ضرورت ایک دوسرے کے فرقے اور فقہ کو احترام دیں اور اس کی حسب توفیق پیروی کر لیں تو شائید اسلام ایسے ہی compesation کا نام ہے ۔ مثلا میرا فرقہ اگر اہلحدیث نہیں بھی ہے اور میں نے دیکھا کہ میرے برابر کھڑے شخص نے جلدی میں کندھے سے کندھا ملائے بغیر نیت باندھ لی ہے تو ہم مِیں سے کسی ایک کو چاہئے کہ فرقے اور فقہہ سے بالا تر ہو کر اپنی ٹانگ کو تھوڑا چوڑا کر کے ہ وہ خلا بھر دیں جس کے رہ جانے سے صف میں دراڑ پڑ رہی ہے تاکہ ہمارے دلوں میں دراڑ نہ پیدا ہو۔ شاید ہر فرقے کا مخصوص اسٹائل میں نماز پڑھنا۔ ہاتھ اٹھانا ، گرانا پاوں کا فاصلہ کم یا زیادہ رکھنا۔ یہ سب اصول ایک دوسرے کا گیپ فل کرنے کے لیے ہیں تاکہ اسلام کی تکمیل میں کوئی گیپ نہ آجائے ۔ کیا کہتےہیں آپ لوگ اصل مقصد تو نماز کی صف مکمل کرنا ہے نا ؟ تو بس پھر خالی جگہ پر کریں اور پہلے سے پر جگہ کی حفاظت میں کوئی کسر نہ چھوڑیں یہی اسلام ہے ۔ نہ میں کوئی مفتی نہ کوئی عالم لیکن اتنا جانتا ہوں کہ فتوے بازی نے ہمیں آج تک کچھ نہیں دیا سوائے پاسپورٹ ویزوں ، ایمبولینسوں اور پارلیمنٹ میں کچھ سیٹوں کے آپ کیا کہتے ہیں ۔ جو بھی کہنا ہو سوچ سمجھ کر کہنا اور ایک بار پھر مضمون کے ٹاپ پر موجود تنبیہ پڑھ لینا پلیز۔ -زوہیب اکرم

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.