1. ناقابلِ فہم کے بنیادی اجزاء
1.1 علم سے ماورا
علم سے ماورا وہ پہلی سطح ہے جو ناقابلِ فہم کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس میں ہم دیکھتے ہیں کہ یہ حقیقت ہر قسم کی انسانی علم اور معلومات سے بالاتر ہے۔ اس کو سمجھنے کے لئے ہمیں علم کی حدود کو جاننا ضروری ہے۔
تفصیل
جب ہم کہتے ہیں کہ کوئی چیز “علم سے ماورا” ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ہمارے تمام علمی ذرائع، حواس، اور سمجھ سے باہر ہے۔ انسانی علم میں اضافہ ہوتا ہے، لیکن اس میں ہمیشہ ایک حد ہوتی ہے، جس کے آگے ہم کسی حقیقت کو مکمل طور پر نہیں جان سکتے۔ ناقابلِ فہم کا یہ پہلو ظاہر کرتا ہے کہ کچھ ایسی حقیقتیں ہیں جو تمام تر سائنسی اور فلسفیانہ معلومات سے بھی اوپر ہیں۔
مثال
اس کو یوں سمجھیں جیسے ہم کسی تاریک کمرے میں ایک چھوٹے سے چراغ کے ساتھ کھڑے ہوں؛ وہ چراغ ہمارے آس پاس کی چیزوں کو روشن کر دیتا ہے، لیکن اس کمرے کی مکمل وسعت اور تمام اشیاء کا ادراک ہمیں حاصل نہیں ہوتا۔ یہ چراغ ہمارے علم کا نمائندہ ہے، اور کمرے کا باقی حصہ علم سے ماورا ہے۔
نتیجہ
یہ سطح ہمیں یہ بتاتی ہے کہ انسانی علم کی حدود ہیں، اور ان حدود سے پرے ایسی حقیقتیں موجود ہیں جو شاید کبھی ہماری فہم کا حصہ نہیں بن سکیں۔ یہ حقیقت ہمیں عاجزی اور انکساری کا درس دیتی ہے کہ ہماری عقل اور علم محدود ہیں، اور اس کے آگے ایک بے کراں معمہ موجود ہے۔

اترك رد