زنانہ ٹائپ کا مرد ہو تو وہ طعن تشنیع سے کام لیتا ہے،
نہ کہ ، استحقاق سے
لیکن(اکثر، سب نہیں)nپاکستانی عورتیں(اکثر) چونکہ جھوٹ، فریب، میں رہنے کی خواہش مند ہوتی ہیں،( اس کی وجہ بھی ان کا بارن براٹ اپ، کنڈیشننگ، پھر ہوئئ، beta male ٹائپ کولہو کا بیل مل۔جانا ہوتا ہے، پھر ان عورتوں کو ( سب نہیں لیکن زیادہ تر،)، اپنے شوہروں میں، حقیقت دم ہلاتا کتا اور دل میں، ںرلن چاہئے ہوتا یے ، وہ اس زنانہ عادت (طنز) جو برلن کے منہ سے نکلے، اسے سینس اف ہیومر سمجھتی ہیں
ایسی ایسی جید مینو پاز کا شکار عورتوں کو، ہائے برلن ہائے برلن کرتے دیکھا یے، اس سے اندازہ لگا لو ان کی ذہنیت انہیںں کرمینل مرد پسند ہیں، اور پھر کہتے ہیں
کامیاب مرد کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے
پاکستانی معاشرے میں یہ مثال
یوں ہے
عورت( سب نہیں، اکثر) جاتی ہی کامیاب مرد کے پیچھے ہے۔۔۔
اس مائنڈ سیٹ کی وجہ، بھی مرد ہیں۔۔
ان کے اپنے باپ بھائی۔nnکیا ؟ برلن کی تصویر کیوں لگائی ؟
کھسروں کی طرح بولتا ہے اس لیے 😉
پوسٹ – 2022-06-15
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد