کہانی کا نام : آخری قسطnnکردار جب قلم تھامنے لگے، تو سمجھ جاو، کہانی کا انجام بدلنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ nnیہ کہتے ہوئیے ، لکھاری نے قلم پلیٹ فارم پہ پھینک دیا۔
اسی لمحے ٹرین کی وسل سنائی دی، اور گاڑی ہولے ہولے سرکنے لگی۔
وہ بجھی سگریٹ ہونٹوں اٹکائے کھڑکی سے باہر ، اندھیرے میں گم ہوتے پلیٹ فارم کو دیکھ رہا تھا، پٹریوں کی چمک اس کی مسکراہٹ کی مانند، ماند پڑ رہی تھی
یکایک اس کے سمر شیو آلود چہرے کے سامنے ایک شعلہ بھڑکا، اور اگلے ہی لمحے، کڑوا دھواں اس کے چہرے کو دھند کرگیا۔nnلیکن اب تم انجام کیسے لکھو گے ؟n یہ نشا تھی۔۔۔
اس کی محبوبہ ، جو اسے بجھی سگریٹ کے ساتھ دیکھتی تو فورا لائیٹر سے سگرٹ کو شعلہ دکھا دیا کرتی۔ nاسے معلوم تھا کہ اس کے ہونٹوں میں اٹکی بجھی سگریٹ کسی کردار کی بے نوائی پر منتج ہو گی یا پھر پوری کہانی ادھوری رہ جائے گی اور ایسا تب ہوتا جب کوئی کردار شدو مد سے اپنا آپ لکھاری پر غیر ضروری ثابت کردیتا۔
آں، ہاں کیا کہہ رہی ہو؟n وہ جیسے نیند سے جاگاn میں یہ پوچھ رہی ہوں تم نے قلم کو توڑ کر پلیٹ فارم پہ پھینک دیا ہے کیا تم منزل تک پہنچنے سے پہلے کہانی کو انجام دے دو گے
وہ مسکرایا nجواب دو نا
وہ مچلی تھی، زہر لگتی تھی، سناٹوں کی سیج پہ اس کی نوبیاہتا بیوہ سی مسکراہٹnn۔اس نے نشا کو بازو سے پکڑ کر قریب کیا ہونٹوں کی کان کی لو سے ٹکرا کہ پھنکارا
کبھی سوچا ہے کہ اس کردار پر کیا بیتتی ہو گی جس کی کہانی بے انجام رہ جائے ؟ اسی لئے کچھ کہانیاں ادھوری ہی پایا تکمیل تک پہنچتی ہیں۔؟nn یہ کہتے ہوئے اس نے سگریٹ پھر سے بجھا کر کھڑکی سے باہر اچھال دی۔
ماحول میں اب پٹریوں کا بین اور ٹرین کے قہقہے مدغم ہو رہے تھے۔ اور اس کے چہرے پہ سناٹا چھاجوں برس رہا تھا۔
نشا کو اس چہرہ آج بارات کو نوچتے کسی گدھ کا سا سفاک لگا۔nnعصر کے بعد نماز جنازہ ہے
اسٹیشن کے قریب گاوں کی چھوٹی سی مسجد سے اعلان سنائی دیاn تمام باراتی تھکے قدموں سے وضو کر کے عصر کی تیار کرنے لگے، ان میں مقتول دولہے کا باپ بھی تھا۔
اس کی دنیا اندھیر نہیں قبر ہوگئی تھی۔ اسے اب ثواب و عذاب کا تصور ہی سمجھ نہیں آرہا تھا۔
ابھی دو ہفتے پہلے تو اس کے بیٹے نے فون کر کے خوشخبری سنائی تھی
بابا میری کتاب چھپ گئی۔
اس نے موقع غنیمت جانتے ، بیٹے کا موڈ دیکھتے ہوئیے اسے اس کی بچپن کی منگ یاد دلائی تھی، جو چھ سال سے اس کی منگنی طوق بنائے، کتاب چھپنے کے انتظار میں بیٹھی، جذبوں کو جھریاں کر رہی تھی۔ nبیٹا کہنے لگا
بابا بس چند دن میں میں گاوں آکر اپنا وعدہ پورا کروں گا
سرخ ہوتی قمیص کی جیب میں آج قلم کی جگہ خالی تھی، گولی دل کو چیرتی ہوئی لکھاری کی کہانی کو انجام کرگئی تھی۔
یہ سب اس نامساعد لالچی عشق کا نتیجہ تھا جس کے چکر میں اس نے پبلشر کی بیٹی سے ، شادی کے وعدے کا ڈھونگ رچایا تھا،
اور اسے اس لڑکی کی خواہش کے عین مطابق بارات والے دن بھگا لیا
اسے کیا خبر تھی کہ پںلشر تو اس کا فرنٹ ہے، حقیقت میں تو ، وہ ایک ڈرگ لارڈ کی بیٹی سے یہ وعدہ کر بیٹھا یے،nn تھا ، اس نے تو یہ سوچا تھا کہ رستے میں کہیں کسی سٹیشن پر بے
اس احمق سے لڑکی کو بے نوا سا وداع کر کےاندھیرے میں گم ہوجائے گا ، تین لاکھ روپوں کے عوض، کتاب کی شکل میں لانے کا نتیجہ یہ ہوا تھا کہ اسے اپنی منگ بھول گئی تھی۔
اس کی ذاتی ذندگی کی
کہانی کا خوشیوں بھرا انجام اس کے ہاتھ سے پبلشر کے گرگے کی گولی نے اچک لیا تھا، کی اس غنڈوں میں سے ایک نے انہیں سٹیشن پہ دیکھ لیا تھا اور اپنے مالک کی بیٹی کو پہچان کر اس کا ماتھا ٹھنکا اور فورا باس کو انفارم کیا ، لکھوا ، اطلاع ملتے ہی ٹرین کے تمام بڑے سٹیشن پر پبلشر کے گرگے اور لکھاری کی تصویر پہنچ گئی تھی۔ nاسے ٹھیک سے قتل کرنا، ان کا مشن تھا nnلفظ، اس بار لکھاری کو کھا گئیے تھے ۔
اس کی زندگی جی آخری قسط بہت ہی بھیانک تھی
پوسٹ – 2022-05-10
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد