پوسٹ – 2022-05-05

مجھے پتا ہے تم شادی شدہ ہو
خوش ہو nاور میں ان قابل نفرت افراد میں سے ہوں بھی نہیں
جوn”وہ خوش ہے تو میں بھی اس کی خوشی میں خوش ہوں”nجیسی “آنگور کھٹے ہیں ” والی باتیں کرتے ہیں
پتا ہے کیوں مشیعل ، میں خوش نہیں ہوں
اس لیے بس آج کہے دیتا ہوں کہ nیہ تحریر
تم تک نہیں پہنچے گی nپروا بھی نہیں نہ پہنچے — nلیکن ، بہرحال کائنات میں ، بمثل لہر محفوظ ضرور ہوگی nnخمار آلود رت جگے ، ادھ کھلے لبوں کی باسی مہک بیچ جو ایک تشنہ سا تعلق ہے ، اس تعلق کی گرد تک کو نہیں پہنچ سکتا کوئی مادی رشتہ ، کوئی مصنوعی خوشبو ، کوئی نفاق سے نم لفظ، nایسا مانا جاتا ہے کہ nخوبصورتی گر وہ محدود مگر ، میٹھا پانی ہوتی ، جو ، کسی غیر آباد جزیرے میں ، لاچاری کی موت مرتے پیاسے کی آخری خواہش ہوسکتا تھا
جسے پی کر وہ زندگی کی امید میں سکرات سے بغلگیر ہوجاتا nتب بھِی خوبصورتی کی وقعت، nایسے کٹیلے لبوں کے ادھ کھلے گلابوں سے کم ہوتی nجو لب جاں بلب کردینے کا پروانہ ہمہ وقت مسکراہٹوں میں لیے گھومتے یہں nجن میں پسینے کی حدت، رومان کی نرمگیں کیفیت ، اور انہتائی مہین سی نمی ، جو اس حدت کا ایک استعارہ ہو nوہ لب ، جن کو محض دیکھتے رہنے کی خواہش انہیں بھنبھوڑ دینے پہ حاوی آجائے ، کہ ایسی خوبصورتی ایسی صناعی کہیں چھونے سے ناپاک نہ ہوجائے nچہ جائیکہ ، یہ لب ، ہی چہرہ یہ عارض ، ان کا مقصد وجود ہی انہیں بروئے کار لانا ہے nپتا ہے کیا میری ساحرہ ، یہ تمام لفظ ، اعترافات، اظہار ، شدتیں ، زنگ آلود ادھیڑ عمری میں ، مہمیز کا دوسرا روپ ہیں nوہ روپ ، جو ہر بار ہر رات ہر صبح تازگی کا طالب ہوتا ہے nکہ کہیں ، ڈھلتی شام ، بے توجہی کی سی ناقدری سے خون رنگ نہ ہوجائے nشدید مصروفیت کے ان لمحات میں ، nتیری یاد کی بہشت ، تری تصویر کی نعمت ، تیری موجودگی کے احساس پہ ایمان ، nمحض جسمانی نہیں ، روحانی ضرورت، بنتا ہے ، ہر رات بنتا ہے nہر صبح ٹوٹتا ہے
ہر شام بنتا ہے nہر رات ٹوٹتا ہے nپر ایک چیز جو اس تغیر میں ثبات کی اکملیت و معراج پاچکی ہے nو ہ ہے ، ان تمام الفاظ کا ، اعترافات کا ، بیانات کا ، تیرے اور صرف تیرے لیے ، تجھ سے منسوب رہنا ، تجھ سے ماخوذ ہونا
یاد رکھنا کہ خود سے کیا گیا عہد کے تجھے ، لفظوں میں غسل دینا ، تیرے گن گانا تجھَ خود میں ، بسانا ، تیری تقدیس تری تعریف ، کی تجدید کبھی بھی نظر التفات کے درجے سے نہیں گرے گی nکیوں کہ ، تجھے نظر التفات سے گرانا ، میری جان ، خود کو سطحیت پہ لانا ہے nیاد رکھنا ، گواہ رہنا ، جواب در جواب اظہار در اظہار ، درکار نہیں ، طلب نہیں خواہش نہی
جو مزاج یار میں آئے nکہ سر تسلیم خم
بس اتنا یاد رکھنا کہ nازل سے ابد تک انسانیت اپنے بہت سے عروج و زوال دیکھتی رہی ہے اور دیکھے گی ، لیکن ایک جو تھی ہے اور رہے گی جسے دنیاوی کوئِ طاقت ختم نہیں کرسکتی ہے وہ ہے
خمار آلود رت جگے ، ادھ کھلے لبوں کی باسی مہک بیچ ایک تشنہ سا تعلق – nجس کی تشنگی اس کی حفاظت آپوں آپ کرتی ہے جیسے موت زندگی کی -nnوگدی ندی دا پانی
تر گئے نصیباں والے
رڑ گئی مری جوانی nترا پیار یاد رکھیا nمیں پل گیا اوقاتاں
کہندے سی پیار والے nنئیں عشق پچھا ذاتاں

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.