ایک پوسٹ چل رہی ہے جس میں بہت سے تعطل کا شکار کیسز کا تذکرہ ہے اور ٹھیک ہے کہ ان کیسیز ہے فیصلوں میں سستی اور خان کو ذلیل کرکے نکالنا تھا تو عدالت رات کو بھی لگ گئی۔
لیکن چونکہ sensational فیز چل رہا ہے، nیہ پاکستانی قوم نارمل حالات میں آدھی ادھوری عقل ابھی تو پھر sensational phase چل رہا ہے
اس لیے
اس پوسٹ کو بناتے ، شئیر کرتے وقت نہیں سوچے گی کہ
انصاف کا عمل تو شروع سے ہی سست ہے، nخان کے دور میں کیوں نہیں بنی یہ والی پوسٹ ؟
تمھارے دور میں کیسیز میں تیزی کیوں نہیں آیی ؟
تم تو تحریک انصاف ہو نا ؟
عدالتی اصلاحات کے دعوے کرکے آئے تھے نا
انصاف گھر کی دہلیز پہ منشور تھا نا ؟
خیر تمھاری کیا اوقات ہونی ہے عدالت کے سامنے، جب بات اتنے ںڑے بڑے کیسز اور جغادریوں کی ہو۔۔ کیوں کہ
عدالت سے اوپر ایک اور محمکہ ہے باوقار سا۔اس لیے تم تو چھوڑ ہی دو
اصل سوال یہ ہے کہ
یہ پوسٹ یہ کولاج اس وقت کیوں نہیں بنا جب خان
پین رول رہا تھا ملک کی،
جب ذلیل ہو کر نکلا تب یاد آئی تھی کورٹ کی ناانصافی یا تعصب کی اس کا کیا مطلب ہوا ؟
تم لوگ بھی بلیک میلر ہی ہو
اگر حکومت کرنے دی جایے تو عدالتیں اچھی
ٹھڈے مار کر نکالا جائے تو
پھر عدالت کے پرانے کرتوت یاد آتے ہیں
کیا فرق ہے تم میں اور اس ملازم میں جسے کمپنی سے نکالے جانے کے بعد سچ کا دورہ پڑتا ہے۔۔
پوسٹ – 2022-04-11
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد