پوسٹ – 2022-04-11

شعور کی نسیں nنیلے پڑتے ادارک سے nجھلس رہی ہیں nپھیپھڑے خودشناسی کی nتیزابی بھاپ لیے nخودفراموشی کی سیٹی بجاتے ہیں nاسیے میں جو راکھ کریدی جائے nموازنوں کی ،تو نتیجہ ایک نکلتا ہے
ایک اور ایک دو نہیں
دو جمع دو چار ضرور ہیں
اس دور خود اذیتی میں nاس دور خود ٖفراموشی میں
سرمستی کا راگ
بس اک صورت بنا ناچتا ہے
وہ آئینہ ، ذات کو ہو تو کرچی
وہ بدذات کا ہو تو شیشہ
کہ شفافیت ہلکورے لیتی ناگن بن بن
پلٹ پلٹ ڈستی ہے nاور پھرسے شعور کی نسیں nنیلے پڑتے ادراک سے جھلستی ہیں
یہ وقت گزرتا رہتا ہے
پر لمحے سسکتے رہتے ہیں
اس زہر کا تریاق بنا تعلق مگر
ہرروز ایک نئی آنچ پر ہمکتا رہتا ہے ۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.