پڑھ لکھ بھی جائیں گے nہنر مند بھی ہوجائیں گے nنوکری بھی مل جائے گی nپیسے بھی کما لیں گے nشادی بھی ہوجائے گی nاولاد بھی ہوجائے گی nاولاد کو بھی nپڑھا لکھا لیں گے nہنر مند بھی بنا دیں گے nان کی نوکری بھی ہوجائے گی nوہ اچھے پیسے بھی کما لیں گے nان کی بھی شادی ہوجائے گی nان کے بھی بچے ہوجائیں گے nnاب بتائیں ، اس پورے لوپ میں ، آپ نے سوسائٹی کے لیے بہتر کیا
مطلب ، آپ کے وجود کا یہی مقصد تھا ، اور آپ یہی چیز اگلی نسلوں میں اور وہ اس سے اگلی نسلوں میں ٹرانسفر کررہے ہیں ؟
سوچیں ، واقعی سوچیں ، کیا یہ مذکورہ بالا چیزیں ، محض یہی چیزیں کرنے آئے ہیں یہاں ؟
میں نہیں کہتا ، یہ مولوی ہوجائیں ، خانقاہ بنا لیں ، درویش ہوجائیں ، چلے پہ نکل جائیں nیہ سب کریں ، اور وہ سب بھی ، جو اوپر لکھا ہے nکوئی برائی نہیں بلکہ یہ سب ساتھ چلنا چاہئے nخصوصا وہ افراد جو پینتیس سے چالیس یا پینتالیس کے درمیان ہیں ، nوہ
اگر واقعتا نوجوان نسل ، یعنی چودہ سے اٹھائیس سالہ افراد کی شخصی بہتری کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو
مذکورہ بالا سوال کا جواب سوچیں nکہ کیا ، وہ یہی سب کرنے آئے ہیں ، یا انسانی وجود ، اس سے کچھ بلکہ کہیں زیادہ کا متحمل ہوسکتا ہے ،اس کی capacity اس سے کہیں زیادہ ہے nاگر ، یہی سب کرنا ہے تو یہ ، عرصے سے ہوتا چلا آرہا ہے nمذکورہ بالا چیزوں میں سے کچھ ایسا نہں جو ہماری سوسائٹی میں نہ ہو
پھر ، اس معاشرے کے زوال کی کیا وجہ ہے ؟
اور اگر صرف یہی سب نہیں کرنے آئے nتو کیا “مسنگ” ہے مذکورہ فہرست میں جو ، ہم نوجوان نسل کو نہیں دے پارہے ۔۔
نوٹ: میں تو خیر ، مرد حضرات کو ویسے بھی تہی دامن دیکھناچاہتا ہوں ، اسلیے مجھ سے کچھ نہ پوچھیں ۔۔ ہونہہ
پوسٹ – 2022-04-09
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد