خوف کو زیر نگیں کیجیے۔nnسب سے پہلے تو یہ سمجھ لیں، یہ خوف نہیں جو آپ کو کسی بھی موقعے سے فائدہ نہیں اٹھانے دیتا۔۔۔
یہ در اصل آپ کا خوف کے بارے میں perception ہے nجو آپ کو مختلف مواقع پہ بزدل کردیتا ہے
یہ سوچتے رہنا کہ
میرے ساتھ یہ غلط ہو جائے گاn اگر میں نے ایسے کیا تو، وہ نقصان ہوجائے گا nیا پھر خوف کی سب سے حقیر اور گھٹیا قسمn’لوگ کیا کہیں گے’nایسی تصورات ،ایسی سوچوں کی یلغار آپ کے، تخیل کو سن کردیتی ہے
پھر ایک دن آتا ہے کہ آپ فیصلہ کرتے ہیں کہ اب آپ نے وہ کام کرنا ہے کہ جس سے خوف محسوس ہوتا ہو، خوف کو پچھاڑنا ہے۔nn اس کا مطلب کیا ہوا ؟
یہی نا کہ۔۔۔ nnخوف بذات خود ایک “کیفیت” سے زیادہ ایک چوایس ہے، ایک اختیاری فیصلہ پے۔
ہم مختلف چیزوں سے ڈرتے رہتے ہیں کیوں کہ وہ ہمیں ہمارے کمفرٹ زون سے نکالتی ہیں
ہاں اگر آپ کو ایسا کوئی بھی کام کرنے میں دشواری محسوس ہوتی ہو جو آپ کے کمفرٹ زون سے باہر ہےn اور وہ کرتے ہوئے یا کرنے کا سوچ کر ہی آپ بے چین ہو جاتے ہیں آپ کو خوف کی کیفیت ہوتی ہے تو یہ حالت، ایک لحاظ سے بہتر بھی ہوتی ہے nیہ دراصل سگنل ہوتا ہے کہ آپ اپنے کمفرٹ زون سے نکلنے کے لیے ہاتھ پاوں ماررہے ہیں، اور ایک نہ ایک دن اس میں کامیاب بھی ہوجایں گے۔
پوسٹ – 2022-03-09
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد