پوسٹ – 2022-03-01

کہانی کردار صورتحال ان سب میں مماثلت ہر گز ہرگز ، اتفاقیہ نہ سمجھی جائے
بیوہ مصنف کی سلائی مشینnn”اٹھ اوئے ، آگیا ہے وہ ، آج خیر نہیں ہماری ، آج تو سب کو مکئی کی طرح بھونے گا”nبدکردار نے نیک کردار کو لات ماری ، لات کھاتے ہی ، کردار ، شیلف سے نیچے گرا اور لڑکھتا ہوا ، ثانوی کردار سے جا ٹکرایا ، ان کی کھٹ پٹ سے ، ایک ایک کر کے ، سارے کردار ، جاگتے چلے گئے ، ثانوی کردار ، ابھی سگرٹ بھر ہی رہا تھا کہ نیک کردار کی ٹکر سے ہڑبڑا کر رہ گیا، ، اس کی سگریٹ چھوٹ گئی ،
در فٹے منہ ،یکے کے منہ والے ، نیک کردار۔
وہ چلایا ، اتنی مشکل سے بھری تھی ، پہلے ہی ، باہر مال شارٹ ہے ۔۔۔
بیچارگی سے زمین پر بکھری سگریٹ کو دیکھتے ہوئے اس نے نیک کردار پہ فوری لعنت بھیج ۔
سارے کردار، الرٹ کھڑے تھے ، کسی بھی وقت کسی کی طلبی ہو سکتی تھی ،
انہیں باہر سے بیوہ مصنف کی چہکاروں کی آوازیں آرہی تھیں ، اچٹتے فقروں میں یہ معلوم ہوگیا تھا کہ آج بیوہ مصنف نے ،سلائی مشین جیتی ہے ، اور اب ، ٹاٹ کے ٹکڑے جوڑ کر ، ا ن کا ، کچھ بنانا ہے ، چادر ، چنری ، کوئی سوٹ، تیار کرنا تھا ،n”پر اس کی تو کوئی برانڈ ہی نہیں، کوئی دکان نہیں ، کوئی پہچان نہیں ، ، یہ کیسے ، کس نام سے ، اپنا مال بیچے گا ، “nمرکزی کردار نے بدکردار کی طرف دیکھا ،n”اس سے کیا فرق پڑنا ہے ، ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے وہ سوچو”n”کیا ہونے والا ہے ؟”nنیک کردارجو معصومانہ انداز میں کپڑے جھاڑ کر کھڑا ہوا ، اور اوپر منہ کر کے شیلف کی طرف آواز لگائی
بولو نا کیا ہونے والا ہے ، او بولو وی کجھ،
بولتے کیوں نہیں میرے حق میں ، آملے کا اچار کھا بیٹھے ہو کیا ا ؟
بدکردار ، نیچے کی طرف جھکا ،
اور مسکرایا
انی دیا مذاق اے ؟،
ثانوی ممنایا ،n”نہیں انی دی نہیں ہے ، مصنف ہے ، اور آج کہانی لکھے ہی لکھے “n”آپ لوگوں کی جگت بازی ہوگئی تو اب جواب دے دیں ، ہماری شامت کیسے ؟-nچھوٹے سے قد کا ثانوی کردار ، میٹھے لہجے میں پوچھ رہا تھا ،
بدکردار نے ، کان پہ اٹکی سگریٹ نکالی ، اسے شیلف پر ہلکا سا ٹک ٹک کیا ، اور ماچس کے لیے ، ادھر ادھر دیکھنے لگا ،پھر مایوس ہوکر ، خود ہی سگرٹ سلگا لی ، وہ بھول گیا تھا ، بیو ہ مصنف نے ابھی کہانی شروع ہی نہیں کی ، تو اس کا کوئی غنڈہ اسسٹنٹ ہے ہی نہیں ، جو سگرٹ سلگا کر دے ۔
ہاں تو سنجوں ، کیا پوچھ رہے تھے ، کہ بیوہ مصنف کو ملی سلائی مشین سے ہماری نوکری کا کیا تعلق، یعنی ہماری شامت کیسے آئے ،
اس کے چہرے پر ، جعلی مدبروں والی عینک ٹکی تھی ، اور تاثرات بھی مکمل سنجیدہ ،
اوے بے غیرت میرا چشمہ تو ادھر دو،
یہ، بدکردار کےایک اور دشمن جو یکے کے منہ والا نیک کردار نہیں تھا ، اس کی آواز تھی۔
اس کا نام گیسٹ ولن تھا ، اور اس کی شکل گیس کے غبارے جیسی تھی ۔n”اچھا ، ویٹ نا دیتا ہوں نا ، ” اسے دیکھ کر بدکردار ، کا سکن کلر ، ایک دم گلابی ہوجایا کرتا تھا۔n”ہاں تو ، میں یہ کہہ رہا تھا کہ ، “nبدکردار نے ، سگرٹ کا ایک کش لیا ،
بیوہ مصنف ہے ، اس کو ملی سلائی مشین کا ، تعلق ، ہماری شامت سے ایسے ہے کہ ، یہ جو ، ٹاٹ کے پیوند لگا کر ، چنری بیچے گا ، اس برانڈ کا نام ہے “کہانی” ۔
، اور آپ کو تو پتا ہے ، جب کوئی نیا نیا مصنف لگتا ہے تو، سب سے زیادہ شامت کس کی آتی ہے ؟
کرداروں کی —ثانوی کردار چلایا ،
ثانوی کردار ،ایک گھٹیا سے قد والا کمسن وجود تھا ، اس کا اضطراب اس کی عمر سے تین گنا زیادہ تھا ،
یکے کے منہ والے نیک کردار نے اس کی طرف ، دیکھ کر برا سا منہ بنایا، اور بڑبڑایا ،
جنریشن زیڈ کہیں کا۔
نہیں کرداروں کی نہیں ،
بدکردار نے نفی میں سر ہلایا ۔
اور کوئی آپ میں سے بتانا چاہئے گا ، کہ جب کوئی نیا نیا لکھاری لگتا ہے ، تو سب سے پہلے اور زیادہ شامت کس کی آتی ہے۔
سب خاموش تھے
بدکردار کی باچھوں پہ ، احساس برتری ابھر آیا
میں بتاتا ہوں
تو بتاو نا بے غیرت ۔
یہ وہی گیسٹ کردار تھا ، جس کا منہ گیس کے غبارے جیسا تھا
اچھا نا بتا رہا ہوں نا ،
بدکردار اسے تھوڑا ڈرتا تھا ، کہ گیسٹ کردار کی آمدا ن کے ہاں کبھی کبھی ہوتی تھی ، لیکن بہت ڈھول باجوں کے ساتھ ہوتی تھی ۔وہ کوئی بڑا آدمی لگتا تھا
بھئی تو ، بیوہ مصنف کو ، جب جب سلائی مشین ۔۔۔۔۔۔۔۔
او یتیم کھسرے ، ، کتنی بار کہو گے کہ شامت کس کی آتی ہے ، اب بتا بھی چکو ، گیس کے غبارے کے منہ والا اب پھٹ پڑا
بدکردار کی عینک ٹیڑھی ہوگئی ، تھی سگریٹ کا منہ ، یکے کے منہ جیسا لٹکا گیا تھا ،
بدکردار نے سرجھکا کر ، شرمندگی سے کہاn”کہانی /افسانہ نگاری کے اصولوں کی “۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.