ادب کی پیشانی پہ ، عورت کے قدموں کی دھول ، بمثل برکت آویزاں نہ ہوتی ، تو ، ادب کی حیثیت ، بن ماں کے بچے کی سی ہوتی ۔۔nnیہ بسمل سے گیسو ،یہ عارض گلابی nزمانے میں لائیں گے اک دن خرابی
ادب کی پیشانی پہ ، عورت کے قدموں کی دھول ، بمثل برکت آویزاں نہ ہوتی ، تو ، ادب کی حیثیت ، بن ماں کے بچے کی سی ہوتی ۔۔nnیہ بسمل سے گیسو ،یہ عارض گلابی nزمانے میں لائیں گے اک دن خرابی
اترك رد