تم ہر وقت، بیرون ملک مقیم ، پاکستانیوں کے خلاف بولتے رہتے ہو۔
ایک منٹ میں نے آج تک ، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے بارے میں کچھ نہں کہا ، میں نے ، پاکستانی شکلوں والے غیر ملکیوں کو کہا ہے جو بھی کہا ہے ، اور ان میں سے بھی وہ ، جو پاکستان کے معاملات میں ، اپنی “للو” کو ہلاتے ہیں nہاں وہی وہی ۔۔
تو تمھاری تنخواہ بھی تو باہر سے آتی ہے ، یا فری لانس بھی اگر کرتے تھے ، تو وہ ، بھی باہر سے ہی کام پکڑتے ہو ، باہر کا کام کرتے ہو
ہاں تو ؟
تو تم بیرون ملک کو برا بھلا کیسے کہہ سکتے ہو
میرے پاس شہریت کہاں کی ہے ، ؟
پاکستان کی nمیں جاب کہاں کرتا ہوں ، ؟
کراچی میں nمیں ، پٹرول کس ملک میں بھرواتا ہوں ، ؟
پاکستان میں ، nکس ریٹ پر
وہی جو ، ابھی تازہ ہے nمیں کن سڑکوں پر سفر کرتا ہوں ۔۔
وہی کراچی کی ٹوٹی پجی ، nمیں کہاں کے ٹریفک میں ، لاقانونیت جھیلتا ہوا، سگنل توڑتے ، رانگ سائڈ سے ، آتے افراد کو روزانہ کی بنیاد پر برداشت کرتا ہوں
میرے سوشل/سیکورٹی/سیفٹی/ہیلتھ کنسرن معاملات کس معاشرے سے متعلق ہیں ؟
مجھے بجلی ، پانی گیس کی عدم دستیابی کے باوجود بھی ، مہنگے مہنگے بل ، کہاں دینے پڑتے ہیں nپاکستان میں nوہی کراچی کے غلیظ معاشرے والے ۔۔
کیا جب میں کراچی ہوتا ہوں ، تو پنجاب کی تعریف یا اس پر تنقید کرتا ہوں
نہیں nکیا جب میں پنجاب ہوتا ہوں ، تو کراچی کے مسئلے مسائل یا سوساٹئی پر بات کرتا ہوں ، nجب کہ میں کر سکتا ہوں ، رائٹ ؟ کیوں کہ ، کراچی نامی غلاظت اور پنجاب نامی صوبہ ، دونوں پاکستان میں ہی ہیں ، ایک ہی شناختی کارڈ پاسپورٹ چلتا ہے nمیں نہیں کرتا، کیوں کہ ، جہاں میں suffer کررہا ہوں ہوں گا ، وہیں کی بات کروں گا، جہاں میں انجوائے کررہا ہوں وہیں کی بات کروں گا ،
یہ غیر ملکیوں کے stakes کیا ہیں ؟
یار وہ remittience nبیوی بچے یا گھر والے باہر ہوتے ، تو بھیجتے یہ پاکستان می کچھ ؟
ہونگے ، کچھ خیر خواہ ریاست کے ۔ nنہیں چاہئیں ، جہاں رہتے ہیں ، وہاں کے وفادار رہیں۔
دیکھ بھئی سادہ اور سیدھی سی بات ہے ، اگر کسی ابلیس فطرت والے کو سمجھ نہیں آرہی ، تو سوائے ان کی مذمت کے کوئی ، چارہ نہیں nبات صرف اتنی ہے nn”جب تم ، یہاں پر suffer نہیں کررہے ، تو یہاں کے معاملات پر ، گفتگو کا حق نہیں رکھتے ، نہ تمھاری empathy درکار ہے ، نہ sympathy”، صرف practicaility درکار ہے ۔اور practicality صرف یہ ہے ۔۔
پاکستان آو، چند برس رہو ، اتنا چسکا چڑھا ہوا ہے اگر ، ریاست مدینہ کا ، یہاں پہ ، خجل ہو ، اور پھر اگر موڈ ہو تو کرلینا بات ، اس معاشرے کے pros and cons پر — nورنہ ، تم لوگوں میں ، اور ان بردہ فروشوں میں ، کوئی فرق نہیں nجن کا ، ایک چہرہ ، ہمدرد NGO اور دوسرا چہرہ human trafficing ہوتا ہے ۔
پوسٹ – 2022-02-19
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد