دوستوں کی محفل تھی ، دوران گفتگو ایک صاحب نے ، دوسرے پر کسی قسم کا الزام تھوپا ، دوسرے صاحب نے ثبوتوں گواہان اور اور حقائق کی روشنی میں ، پہلے صاحب کو بمعہ الزام “منطق” کی قبر میں دفنا دیا ، ابھی ، ان کے جھوٹ کی آخری رسومات جاری تھیں ، محفل میں ان کی رسوائی نصف النہار پہ تھی ، ہر طرف سے تھو تھو ہو رہی تھی ، کہ اچانک سے ، ان صاحب نے اپنا “treatment” کرنے والے صاحب کی بلند آواز، تلخ و سخت لہجہ (جو کہ ، جھوٹے الزام کے جواب میں ہوا تھا )، پر سوال اٹھا دیا
یار بات تو آرام سے کرو ، nانسان کو نرم خوئی اختیار کرنی چاہئے ، nدھیرج سے بھِی بات کی جا سکتی ہے nواضح رہے یہ “طارق جمیل ” صاحب والی باتیں ، انہوں نے اپنا جھوٹ آشکار ہونے کے بعد کی تھیں ۔
سمجھ نہیں آئی ، جو چور، جو فراڈ، جو جھوٹا، جو کاذب جو مینی پولیٹر ، دھر لیا جائے ، وہ اخلاقیات کے دامن میں پناہ لینے کی کوشش کیوں کرتا ہے ۔۔
مطلب ، یہ تو محض سامنے والے کو “defensive” پر ڈالنے والی تکنیک ہے محض ۔۔
بہرحال ، اب اس کو بڑے کینوس پہ دیکھیں ، جو بے غیرت، جو کج بحثیا ، جو لفافہ ، اس حکومت کے چک کر منہ میں ڈال رہا تھا ، یعنی جانتے بوجھتے ، اس دجال کی حکومت کو ، ریاست مدینہ کہنے پر تلا ہوا تھا ، وہ آج چیں بچیں ہوجاتا ہے اگر ایک لفظ “گھٹیا” ، اسے کہہ دیا جائے ، nاوئے ، تم عملا کنجر ہو ، تو تمھیں کنجر کیوں نہ کہا جائے ، یہ لفظ ، تمھاری تشریف پر اتنا پیاز کیسے کترسکتے ہیں ، جب تمھارا عمل بذات خود زیادہ تباہ کن ہوتا ہے ۔۔
مطلب ، نواز شریف سودی نظام کے حق میں ہو ، تو اسے “حرام خور” کا لفظ برا کیوں لگنا چاہئے ؟
الطاف حسین نے تیس چالیس سال ، مہاجروں کی منجی ٹھوکی ہے ، جانتے بوجھتے وہ ، اسے ابو بنا کر بیٹھے رہے ، اب انہیں ، بزدل پھٹو ، گٹکا خور، الطافی کنجر ، کہا جائے تو یہ لفظ کیسے اخلاقیات سے عاری ہیں nپیپلز پارٹی بھٹو کی لاش بیچ رہی ہے ، تو اسے مردہ فروش کہنا یا گدھ کہنا ، اخلاقیات سے عاری کیسے nباقی اگر اسکندر مرزا سے یحیی خان پھر مشرف تک آئیں تو پتہ نہیں “غیر اخلاقی” الفاظ کم پڑ جائیں ۔۔
پوسٹ – 2022-02-06
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد