عمومی طور پر ، روٹین کی آفس میٹنگ میں ، دو تین چیزیں بیان کرنی ہوتی ہیں nnگذشتہ دن کیا کام کیا ؟
اس میں کیا پرابلمز آئے
اور آج کیا کام کرنا ہے ؟nnاب اگر آپ اپنی روزمرہ کی کارکردگی لفظ بہ لفط لکھ کر رکھ لیں ، اور اسے عین اسی طرح بیان کردیں ، تو دوران گفتگو نہ سانس پھولتا ہے نہ ، تیز تیز بولنے والی “عدم اعتمادی” حملہ کرتی ہے ، nگفتگو کو جما جما کر کرنے کی عادت ہوتی چلی جاتی ہے nnیہ تو ہوا ایک چھوٹے سے کارپوریٹ لیول پر ایک اصول nاب پتہ نہیں کون لوگ ہیں جو بین الاقوامی کینوس پہ ، پرچیوں سے دیکھ کر پڑھنے کی پھبتی اڑاتے ہیں nاور ، بے دیکھے ، بک بک کرتے چلے جانے کو ، فخریہ انداز میں بیان کرتے ہیں nایسی ہذیان ،جس میں نہ یہ سمجھ آرہا ہو کہ ، nجرمنی کو جاپان سے نہیں ملاتے
پودوں سے ، رات میں ، آکسیجن کا تاوان نہیں لیتے nسال بھر کے موسموں کی ترتیب نہیں بگاڑتے nنرسوں کو حور نہیں کہتے nوغیرہ وغیرہ ۔۔
پوسٹ – 2022-01-17
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد