پوسٹ – 2022-01-09

اس پوسٹ کا موضوع، وہ افراد نہیں جن کی شکل ہاکستانی ہے ، اور وہ باہر بیٹھے ، پاکستانی فوج / اداروں کو مری سے متعلق ، اخلاقیات سکھا رہے ہیں یا ان جنرل بھی پاکستان کے معاملات پہ گفتگو فرماتے ہیں ۔nnتم ملک چھوڑ چکے ہو ، شہریت چھوڑ چکے ہو ، تم فکر کرو ،وہاں کی جہاں ہو nکم از کم ، جہاں رہتے ہو ، ان کے تو سگے رہو
رہنا وہاں ہے ، مامے ادھر پاکستان کے بننا ہے nکیا کہا ؟ remittiance بھجواتے ہو ؟n_ن میرا — تمھاری فیملی نہ ہوتی یہاں تو دیکھتا کتنا تمھیں فکر ہے پاکستانی سرکار کے tax net کی ۔
خیر یہ گھٹیا مائنڈ سیٹ موضوع نہیں nتو اس “identity crises” کا شکار ذہنی مریض طبقے کو کرتے ہیں سائڈ پہ nتو اب بات کرتے ہیں ان کی جو یہاں ہیںnnذہنی طور پر مفعول معاشرے کی ایک چھوٹی سی نشانی nحکومت/فوج/ادارے ، ان کے بارے میں ، سرگوشیوں میں بکواس کرتے رہیں گے ، nجگت بازی کرتے رہیں گے ، nمیمز بناتے رہیں گے ، nزنانہ طنازی کرتے رہیں گے nلیکن ، اگر کوئِ شخص، تھوڑِی سی جرات کر کے ، کھلے میں اپنے جذبات کا اظہار کرے گا ، خواہ اخلاقی حدود میں ہی کیوں نہ ہو ؟
یہ مذکورہ بے غیرت اسے ڈرانے لگ جائیں گے ۔
اور پھر، دوبارہ سے زنانہ انداز میں سرگوشیوں میں مذکورہ اداروں پر تبرا بھیجنا شروع ہوجائیں گے nایسا کیوں ہوتا ہے ؟
ایسا گھر کی تربیت یا نسل در نسل کنڈیشنگ کی وجہ سے ہوتا ہے nیہ ہر طاقتور کے آگے سر جھکاتے ہیں ، خواہ سرگوشیوں میں اس کے خلاف بڑبڑاتے رہیں
بھئی اتنا موت پڑتی ہے تو سرگوشیوں میں بکواس بھی مت کرو
کیا مطلب ؟ “دل میں تو برا جانتے ہیں نا ” ، بس اس تنکے کا سہارا لیے ہوئَے ہو؟
یہ مائنڈ سیٹ کیسے بنا ؟
گھر میں ، خاندان میں محلے میں ، برادری میں ، سب سے زیادہ اثر رسوخ ، طاقتور، اور کمانڈ رکھنے والے ، شخص کے آگے جائز بات پہ بھی ، چوں نہیں کرسکتے ۔۔ لیکن ، ایک دوسرے کے سامنے “گلٹ” کو کم کرنے کے لیے سرگوشیوں میں بکواس کرتے ہیں nآپ کو اگر لگتا ہے ، ایسے معاشرے سے ایسے لوگ بھی نکلیں گے ، جنہوں نے ، آگے جا کر ، کوئی بڑا رول پلے کرنا ہو ، “گلوبلی”۔n تو یہ محض مطالعہ پاکستان ہے — nقدرت کو ، ضرورت نہیں پاکستان کی یا کم از کم اس مخصوص پاکستانی معاشرے کی nاب ایک مثال کھل کر دیتا ہوں n”پاکستانی فوج /ایجنسیوں سے کوئِ اختلاف ہو ، تو آپ کیوں نہیں کرتے ہو “nمطلب ، پرابلم کیا ہے ، کیا آپ کی اخلاقی تنقید یا ، دلائل پر مبنی گفتگو سے بھی آپ کو “ویگو” والے لے جائیں گے ۔”nسب پتا ہے ، پاکستانی فوج کی تاریخ اور ایجنسیوں کا کردار، nپر پوائنٹ از ، آپ ایجنسیوں سے نہیں ڈرتے ہو ، nآپ اپنی برادری کے چوہدری یا خاندان کے سربراہ سے بھی اپنے حق کی بات کرتے ہوئَ ڈرتے ہو ۔۔
تو خوام خواہ ویگو کا ڈراوا مت دو
اچھا بات سنو ، ٹرائے کرنا ہے nکسی بھی موضوع پہ ، باپ سے ، باس سے ، مینیجر سے ، بات کرنے کی nجو واقعتا ، تمھارا حق ہو ، جائز ہو ، اور تمھیں شریعت اور اخلاقیات نے اس کی چھوٹ دے رکھی ہو nپھر جب یہ کر گزرو تو ” اندر فرسٹریشن نہیں بچے گی ، کسی بھی غیر متعلق موضوع پہ بات کرنے کی “nnخصوصا کنوارے ، خصوصا، نوکری پیشہ جن کی صبح شروع ہوتی ہے ، خبروں پہ بکواس کرنے سے ، جو کہ ان کا ڈومین نہیں ، nاور شام ہوتی ہے ، اداروں پہ بات کرنے سے

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.