پوسٹ – 2022-01-09

مختصر بات یہ ہے کہ ، nاپنی ترجیحات کو سامنے رکھتے ہوئے “نہ” کہنا سیکھئے ، تھوڑی سی flexiblity کے ساتھ — nnمجھے بڑا ترس آتا ہے اگر کوئی مجھے ، لفٹ کا کہے ، یا یہ کہے مجھے فلاں جگہ لے جاو، کوئِ لے کر جانے والا نہیں لیکن جب میں اس تقاضے کو اس طرح ملفوف دیکھتا ہوں n”اچھا تم نے نہیں جانا فلاں جگہ ؟ ” nاور میں کہوں کہ ، آفس کا کام ہے ، nاور یہ بات میں تین دفعہ کہوں
تو مجھے افسوس اور ترس دونوں ہوتا ہے کہ nسیدھی بات کیوں نہیں کرسکتے ، ٹھیک ہے حفظ مراتب میں بندہ سوچ لیتا ہے کہ یار میں اپنے سے چھوٹے سے تقاضا کیسے کروں nاوکے ہوگیا — nپر بات اتنی سی ہے ، کہ اگر میں ترس کھا کر یہ کام کرلوں تو میرے اندرn”پیسو اگریشن” جنم لے گا ، جو اس وقت پھٹے گا ، جب میرا آفس کا کام مکمل نہں ہوگا، اور مجھے آفس میں ذلت سننے کو ملے گی ، اور وقت، ایسے کسی فرد سے کی گئی مروت میرے کام نہیں آئے گی nکوئِ مذہبی بلیک میلر یہ کہہ سکتا ہے کہ یار
بڑوں کی مانو ، روحانیت ہوگی ، نہیں ہوگی آفس میں ذلت
ایسے کو کہیں ، اچھا آجاو، پھر تم لے جاو 🙂 nnاپنی ترجیحات کو سامنے رکھتے ہوئے “نہ” کہنا سیکھئے

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.