سنگسارnnتمھیں پتا ہے نا کہ ، یہ سماج ، اس کی زہریلی فضائیں ، nہر کسی پر اثر انداز ہوتی ہیں nاور اس کا سب سے مہلک زہر ہے ، nاپنی غلطی کو اون نہ کرو
غلط کو ٹھیک کہو
ٹھِیک کو غلط
اور خرابے کو اصلاح کے بجائے مزید خراب کرو
کہ اصلاح میں ، محنت لگتی زیادہ nاور ، زندگی کے باقی معاملات کی سلجھن زیادہ بڑی ترجیح ہوتی ہے nنہ کہ ہر تعلق کی یا ہر معاملے کی ، nتمھیں پتا ہے نا ، کہ تم نے اپنے ہاتھوں سے اپنی عزت نفس کی ، nاپنی ، خودداری کی ، گردن ، محبت لگاوٹ ، ظرف، نرم خوئی کی میٹھی چھری سے اتاری تھی nتم نے اسے ، ذمے داری کے چوک پر nبردباری کی چمکتی انی پر ٹانگا تھا
اور پکار پکار کر ، اپنے ملنے والوں سے کہتے رہے تھے
کہ کچھ خاص تعلقات کو ، حد سے زیادہ ، انہتائی حد سے زیادہ مارجن دینا ، ضرور بالضرور ، تمھاری صنفی عظمت کی علامت ہے nتم نے ، ہی لاڈوپیار سے ،اگلے کی ذہانت و خوبصورتی کو ، اپنے گلے کا پھندا بنا کر nاس کی گرہیں ، ہر روز ٹائٹ کی تھیں
تمھاری ، آنکھیں ، حلقوں سے باہر ہوتی رہی nتمھاری سانسیں دن بدن ، درجہ بدرجہ ، خود سری کی زہریلی دبیز تہہ تلے دب کر
ماضی کے خوش کن مراحل کو یاد کرتی سکرات تک کو اندھا کررہی تھیں nایسا اندھا کہ ، سکرات براہ راست تمھارے وصل کو ان دیکھے ، وار کر کرے لہو لہان کرے nنہ کہ ایک جھٹکے سے وار کر کے ختم کرے وصل کی رتوں کو nکہ ، زہریلے نرگسیت پسند تعلقات کو ، nدوسرے کی حلق سے قطرہ قطرہ سانسیں کھِنچ کر ، لطف آتا ہے ، نہ کہ اچانک سے جھٹکا کرنا
ایساکیسے ممکن ہے ، وہ تمھیں نابود کرنے کے درپے ہو ، لیکن وہ چاہے کہ تم اچانک مرجاو
وہ تو چاہے گا کہ عذاب کے فرشتے کی خصوصیات مستعار لے کر ، بذات خود، کوڑا لیے nپہلے پاوں کے انگوٹھوں سے ، تمھاری کیفیات کھِنچے پھر nروک کر کوڑے برسائے nپھر گٹھںوں پھر کمر ، پھر معدے میں ، غرض تمھارے ہر مسام پر ، روح کو روک کر
تمھارے سین پر ، تمھارے گلے پر ، تمھاری نتھنوں تک پہنچتے پہنچتے تمھارے رہے سہے جذبات کی روح کو کارزار کر کے nتمھارے مردے کو بھی سنگسار کرگزرے nاور پھر سماج کے زیر اثر n”یہ سب اسی مردہ کا قصور ہے “nکہہ کر کاندھے اچکائے ، nاور خود کو بری الذمہ قرار دے کر nجانے والے تعلق پہ فاتحہ پڑھ کر ، nاس کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرکے
اپنا حصہ ثواب دارین میں ڈال لے ۔
پوسٹ – 2021-12-27
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد