غیر شادی شدہ /سٹوڈنٹ۔ خصوصا کالج یونی ورسٹی والے ، / جاب کرنے والے / ایک دوسرے کے ساتھ شاہ رخ کاجل بن کر زندگی جینے کے دعوے کرنے والے nnاگر مرد ، صاف سیدھے الفاظ میں ، کلاس فیلو یا کولیگ لڑکی ، خواہ کتنی اسلامسٹ ہو ، یا کتنی مارڈرن ، اس سسے کہہ سکتا ہے کہ nدیکھو میں تمھاری طرف کشش
رکھتا ہوں ،میرا واحد مقصد نکاح ہے ، اور اس کا علم میرےگھر والوں کو ہے ، تم دلچسپی رکھتی ہو تو ، آگے بڑھتے ہیں ، اور تمھارے گھر والوں کو پتا ہونا چاہئَے ، ٹھِیک ہے ، پڑھائِ نوکری یہ سب انتظار کرواتی ہیں ، لیکن ، شفافیت بہرحال ہونی چاہئے
اگر یہ سب وہ کہہ سکتا ہے ، انہتائی دو ٹوک اور مہذب الفاظ میں ، nتو ہی وہ ، مرد کہلایا جائے گا ، ورنہ ، باقی اعضا تو کتوں گدھوں کے بھی لگے ہوتے ہیں ۔۔
اگر یہ نہیں کرسکتا، اور لڑکی پھر بھی ، ہینگ آوٹ ، انجوائے ، وی آر جسٹ فرینڈ کرتی پھر رہی ہے ، کہ چلو وقت آنے پہ کہہ دے گا ، تو پھر ، لڑکی بعد میں ، All men are same کہہ کر ، اپنی حماقت کور نہیں کرسکتی ، کیوں کہ ، کیوں کہ ، یہ ٹائم پاس لونڈوں کے کام ہوتے ہیں ، اس میں ، All boys are same ہونا چاہئے ، مرد تو نکاح کی نیت کے بغیر ، کشش وغیرہ کو ثانوی سمجھتا ہے ۔ صرف شناختی کارڈ پر ، لڑکا لکھنے سے ، کوئِ مرد نہیں ہوجاتا۔
پوسٹ – 2021-12-17
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد