اگر متواتر اور،غیر ضروری طور پر شور ماحول آپ کو ڈسٹرب کرتا ہے
اور صدائے احتجاج یا مزاحمت بلند کرنے پہ آپ کو اسے “نارمل لائف” کسنڈر کرنے کا کہا جاتا ہے کہ، nیہ۔ سب تو چلتا ہے، nبرداشت کرو،n اتنا بھی کیا برا ماننا ،n انسان جہاں رہتے ہیں ، وہاں ایسے مسائل تو ہوتے ہیں
اتنا ہے تو جنگلوں میں نکل جاو
غرضیکہ بار بار یہی ںاور کروایا جاتا ہے کہ پر شور ماحول میں نارمل رہنا ہی فطری بات ہے۔ تو ایک کام کریں
جو جو لوگ ایسا کرتے ہیں
ان تمام افراد کے، nسونے
پڑھنے
کسی اہم کام میں مصروفیت کے دوران
تین سے چار بار، باآواز بلند شور شرابا کریں۔
خصوصا جب ایسے افراد پڑھایی کررہے ہوں، یعنی اگلے دن پرچہ ہو
یا کوئی اہم انٹرویو آن لائن
یا پھر سو رہے ہوں۔
لیکن یہ کرنا انہی افراد کے ساتھ ہے جو شور کو نارملائز کرنے والا مائنڈ سیٹ رکھتے ہیں، وہ بھی صرف اس وقت تک، جب تک ان کے اہم کام میں شور مداخلت نہ کرے۔
تھوڑی ذلت ہوگی،
چک چک ہوگی منفیت پھیلے گی
بدنامی بھی ہوگی، کیوں کہ زہریلے افراد کے بیچ صحت مند بات کرنا، خود پہ منفیت اور بدنامی لینا ہے
پر یہ کریں ضرور۔۔
نتیجہ آخر کار، یہی ہوگا کہ ایسے افراد، کو آپ کے ذہنی سکون کی ویلیو محسوس ہوگی،
یاد رکھیں، دماغ پہ زہریلی نفسیات پہ ، مٹھاس یا کڑھ کڑھ کر برداشت کرنا اس بیماری کو مزید بڑھاتا ہے۔۔۔
پوسٹ – 2021-12-17
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد