بیس سے پچیس سال کے نوجوان ، اپنی ذہنی مشقتوں ، مالی معاملات، اسکل سیٹ ، وغیرہ کے حوالے سے موجود پریشانیوں کا، کیا حل کرسکتے ہیں۔۔
ذرا تفصیل سے مسئلہ پڑھئِے پھر – حل nnپاکستان جس طرح کے Emotional and psycological apocalypse nسے گزر رہا ہے ۔۔ nn اس کے بیج ، ساٹھ ستر سال تک بوئے جاتے رہے ہیں ، اور پھر، کورونا/لاک ڈاون نے ، اس جذباتی/نفسیاتی /مجموعی تباہی – Apocalypse کو انتہاوں پر پہنچا دیا ، nدیکھ لیں ، کیا حال ہے nدنیاوی معاملات میں ذلیل
بہت بڑا طبقہ اسکل سیٹ سے عاری nاخلاقیات محض ، فاروڈ میسج تک nمنافقت کا بول بالا
مفاد پرستی کی بکری ، خلوص کو گھاٹا
سوچنا/تخلیقی سوچنا/ parenting / نوجوانوں سے کیسے تعلقات ؟
نوجوانوں کے آپس میں معاملات
محبت کرنے والے ، کپلز خواہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ ، رشتہ/تعلق سنبھالنے کی اہلیت سے عاری ، ا سکی وجہ ، اسے الہامی حق سمجھنا ، جب کہ ، یہ ایک اسکل سیٹ ہے باقاعدہ nسیاست پریشان حال اپنی حرکتوں کی وجہ سے nفوج موج میں اپنی ترجیحات کی وجہ سے nاور سب سے بڑی بات جس نام پر ، ملک لیا تھا، یعنی اسلام ، وہ سب سے آخری ترجیح ، یا صرف اتنا، جتنا سوٹ کرے ۔
یہ مایوسی پھیلانا نہیں ہے ، بس ، یہ بتانا ہے کہ ، پاکستان ، اس وقت
ایموشنل apocalypse کی high tides پہ ہے ۔
اس کا حل ؟
اس کا فوری حل سوچنا چھوڑ دیں -nتیس سے چالیس والے جو ہیں ، وہ فوکس کریں ان پر ، جو ، آج بارہ سے پندرہ سال کے ہیں nاور جو انیس سو پچانوے کے بعد پیدا ہوئے ، یعنی جنریشن زی ، جن میں سے آج کافی لوگ ، بیس سے پچیس کی رینج میں ہیں
ان کو، زیادہ سے زیادہ ، قرآن ، پڑھنے سمجھنے ، اور سیکھنے کی ضرورت nمیں عبادت نہیں ، مطالعے کی سینس میں کہہ رہا ہوں nتلاوت نہیں ، تفاہیم کی سینس میں کہہ رہا ہوں
کوئِ ضرورت نہیں حاجی ثنا اللہ بننے کی ، بس، روٹین رکھیں ، جہاں منہ کالا کرنا ہے کریں ، نیٹ فلکس، فیس بک ، یا جوبھی الم غلم ، لیکن
روزانہ کی بنیادوں پر ، ایک سے دو آیتیں ، قرآن کی پڑھیں ، سمجھیں ، اس کو یاد کریں ، اس پر غور کریں ، زیادہ سے زیادہ پندرہ منٹ
اور اس کے ساتھ ساتھ ، اپنے ہر موجود اور مستقبل کے اسکل سیٹ کو ، nریلیٹ کریں ، مانگیں قرآن کے خالق سے nزیادہ سے زیادہ ، پیسہ کمانے اور سیکھ کر پیسہ کما کر ، تدریج کے ساتھ دوسروں کے لیے بھی کوشش کریں ، nسیکھِں ، سیکھائیں پھِیلائیں ، کچھ وقت کے لیے ، مالی طور پر نہ سہی nاسکل سیٹ کی حد تک صدقہ دیں ، یعنی کسی کو فری میں سکھا دیا
کسی کو رستہ دکھا دیا
لیکن ، یہ سیاسی مذہبی جماعتوں کے لیے نہیں ، انفرادی لیول پر ، یہ جماعتیں بلیک میلر ہیں ، انہوں نے شر سے نوازنا ہے ، اور اپنے مفاد کا استعمال کرنا ہے ، بہتر ہے آُپ خود پیسے کمائیں اور ، دوسرے کو کام دلائیں ، یا اپنی اسکل سیٹ کا صدقہ دیں nیہ ہے بیس سے پچیس سال کی عمر والوں کے لیے nگارنٹی ہے ، چار پانچ سال کے اندر اندر ، آپ اپنی ذات کی حد تک ، بہت سے ٹراماز سے نکل جائیں گے ۔۔
یہ ، کسی ریاست مدینہ کے دھوکے ، یا کسی مطالعہ پاکستان کے مغالطوں کے بس کی بات نہیں ، آج ، اپنی ذات پر فوکس کریں ، اپنے سے چھوٹوں پر فوکس کریں ، استاد ہیں تو طالب علم پر
باپ ہیں تو اولاد پر ، nباس ہیں تو ایمپلائیز پر ، اپنے دائرہ کار اور دائرہ اثر کا استعمال کریں nاس کے لیے ، پہلے خود مقناطیس بنیں ، nورنہ ، جو حال ہوا وا ہے ، یہ حکومت ، یہ ریاست، کچھ وقت میں اور برا کردے گی، اور ان کا فالٹ بھی نہیں ، یہ آتے ہی یہ سب کرنے ہیں nاس لیے ، ان کو چھوڑِیں اپنی انفرادی شخصی بہتری پر فوکس کریں ۔
پوسٹ – 2021-12-14
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد