ویسے تو یہ بات علما بہتر بتا سکتے ہیں پر
چونکہ نماز پڑھنا ہماری ضرورت ہے ، اللہ کو اس کی چنداں پروا نہیں کہ وہ بے نیاز ہے
اب ، چونکہ، نماز اس کی نہیں ،ہماری ضرورت ہے،
اس لیے،نہ پڑھنا، اس کا نہیں، ہمارا نقصان ہے،
وہ ہماری کسی حرکت پہ کان کھینچے یا ناراض ہوگا تو توفیق چھین لے گا، نقصان ہمارا ہی ہونا
اس لیے، عین ممکن ہے کہ nاللہ ہماری ہی کسی بات پہ ہم سے ناراض ہوتا ہو، اس لیے اپنے سامنے قیام (نماز) کی توفیق نہیں دیتا، اور ہم اکڑے پھرتے ہیں، کہ ہم کیوں پڑھیں نماز، ہمیں کیا دیا اس نے وغیرہ وغیرہ، خیر، توفیق نہ ہونے پہ، اس کی وجہ یعنی اپنی غلطی/کوتاہی، سمجھ آئے یا نہ آئے، ذہن پہ زور ڈالے بغیر بس ، درود ابراہیمی، اٹھتے بیٹھتے کثرت سے پڑھیں
ٹریفک میں
قطار میں
کسی انتظار میں
بس زبان پہ یا دل میں جاری ساری رکھیں، یہ معمول بنا لیں
بمشکل چند سیکنڈ لگتے ہیں پڑھنے میں، مشقت بھی نہیں
پندرہ بیس دن پڑھتے چلے جائیں گے، تو ویسے بھی دماغ آٹو پروگرام ہو جائے گا کہ ،فارغ اوقات میں خود سے دل کو اس کام پر لگا دے گا اور زبان اس کا ورد شروع کر دے گی گیn اللہ ، اپنے محبوب (صلی اللہُ علیہ والہ وسلم) کے متواتر ذکر سے، نماز کی توفیق، اس کی رحمت میں لپیٹ کر اتار دے گا۔۔
ٹرائ کیجئے گا، اثر دنوں بلکہ گھنٹوں میں ہوگا۔
پوسٹ – 2021-12-05
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد