پوسٹ – 2021-12-03

رشتہ، تعلق، صنف، عمر nجو بھی ہو، ایک بات سمجھ لو
جتنا دستیاب رہو گے، اتنی ذیادہ ذلت / تحقیر ملے گی
اب اس میں کسی کی مذہبی / خانقاہی/ صوفیانہ خارش جاگے، nکہ نہیں نہیں،عاجزی کرنی چاہئے وغیرہ وغیرہ، تو اس کے لیے ایک فارمولا سمجھ لیں
پاکستانی معاشرے کسی فرد سے اسلامیات/اخلاقیات پہ لیکچر نہ لیں
خود کھوج کریں۔
وجہ ؟ پورا نہ سہی پر اکثریت
بنی اسرائیلیوں کی دوسری شاخ بن چکی ہے۔
ویسے بھی اسرائیل اور پاکستان
مذہب کی بنیاد پہ بنے ہیں نا(مغالطہ پاکستان کےبقول)nاور جو عدم دستیابی کو، غرور، اکھڑ پن، وغیرہ بتائے، اسے تو ویسے بھی ذلیل کرنے کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں
ان الفاظ کے ساتھn”تیرے سے نہیں سیکھنی غرور کی تعریف یا خود کے رویے پہ تبصرہ”nتو واٹس پہ/ فیس بک پہ بے عمل قسم کےnHumble اقوال شئیر کر شاباش

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.