پوسٹ – 2021-11-26

شادی کے لیے لڑکا دیکھنے سے پہلے، اس کی تنخواہ، کردار، یہ سب پہلے دیکھا جاتا یے، لیکن، مشکل وقت میں، مشکل فیصلے، ذمے داریاں نبھانا، مشکل حالات میں خود کو flexible رکھنا، nمینج کرنا، جہاں سخت ہونا یے وہاں مروت نہ رکھنا، جہاں مروت رکھنی یے وہاں سخت نہ ہونا۔
بچوں کی پیدائش کے بعد ، محض نوٹ کمانے والی مشین بننا یا اولاد کی تربیت پہ بھی فوکس کرنی
یہ والی اہلیتیں ہیں، اس سو کالڈ مرر لڑکے ںوائے فرینڈ منگتیر میں۔۔۔
یہ سب نہیں دیکھا جاتا ۔
کیوں ؟۔شادی کردو ، خود صحیح ہوجایے گا nلولnnاور ہاں، تربیت یعنی مذہبی یا معاشرتی بلیک میلنگ اور محض عبادات نہیں nبلکہ، صحیح وقت پہ ، آواز اٹھانا( خواہ سامنے، برداری کا کوئی فرعون ہی کیوں نہ ہو)n فیصلہ کرنا، نہ کہ صنفی یا معاشرتی taboos میں پھنسے رہنا کہ نہیں یار عورت ہے تو نرمی ک متفعن قسم کے ، حفظ مراتب میں لتھڑے رہنا
خواہ اگلی تمھارا دماغ نرم کر کرکے پلپلا کردے لیکن نہیں۔ عورت ہے عزت کرو ، رشتہ کوئی بھی ہو تعلق کوئی بھی ہو nاور اگر کوئی nمحض فطری اصول کی وجہ سے اپ سے پہلے دنیا میں اگیا nبڑا یے تو احترام اتنا کرو کہ nکہ اگلا تمھاری نفسیات کی نکسیر پھاڑ دے nاب رشتہ کوئی بھی ہو،تعلق کوئئ بھی، اور ضروری بھی نہیں کہ بدلحاظی کی جائے، لیکن۔ اپنی بات رکھنے کا ڈھنگ آنا چاہیے
لڑکا دیکھتے ہوئے، جیب ، کنبہ کی تعداد، الگ گھر، بینک بیلنس ظاہری خواص اس سب پہ فوقیت دی جاتی ہے، نہ کہ مذکورہ، بالا عوامل پہnnیہ ہوا لڑکا دیکھنے والا معاملہ
اب لڑکی دیکھتے ہوئے ، چاند سی بہو، گوری لمبا قد، اس کا گھر سنوارنے (ظاہری صفائیاں) یہ سب دیکھا جاتا یے، پھر یہ کہ جہیز کتنا لائے گی پھر مزید بے غیرت تو نوکری کرنے والیاں سوچ کر نکلتے ہیں کہ اگلی اسے بھی پالے، اور گھر بھی، اس چکر میں جس نے نوکری نہیں کرنی ہوتی وی بھی کیے جا رہی ہوتی یے، کیوں۔ کہ گھر سے انجیکٹ کیا گیا “انڈیپنڈنٹ” وومن کا وائرس بھی ایکٹو ہوجاتا یے
کہ مرد نکٹھو ہے، میں تو کم از کم مستقبل کا دیکھوں
اور جن کا مرد نکٹھو نہ ہو انہیں، یہ زہنی بیماری کہ n”کسی کا محتاج نہیں ہونا”nnیہ سب انوسٹی گیشن پہلے چیک کریں
نکاح میں ، جلدی شرعی حکم یے سر آنکھوں پہ
لیکن پاکستانی معاشرے پہ یہ عجلت، بغیر چھان بین کے ذلیل کرواتی ہے
اور اس کا خمیازہ بھگتے ہیں بچے nکیوں کہ رشتہ کرتے وقت کردار
جہیز nخوبصورتی ہر گھٹیا لڑکے والے دیکھ لیں گے
یہ چیزیں، مصنوعی ارینج کرنا کون سا مشکل ہے،
حتی کہ جعلی اخلاقیات بھی جن کی قلعی کچھ وقت بعد کھلتی یے nخصوصا جب اولاد ہوتی ہے
اولاد پیدا کرکے معاشرے میں سٹیٹس تو لے لینا ہے
لیکن اسکی تربیت اس کی۔ نوعمری میں اس کی نگہداشت(نفسیاتی)nیہ سب ٹریننگ کیسے ہو ؟
خصوصاً شادی سے پہلے،
جب رشتہ کرنے جائں /لڑکا ہو یا لڑکی nیہ دیکھیں کہ اس گھر میں بچےکتنے ہیں
اور فریقین کا ان سے رویہ کیا ہے nدودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجانا ہے۔۔۔
ورنہ پھرn’میں تو بس بچوں کی وجہ سے چپ ہوں’nnیہ والا جملہ جپتے عمر گزر جاتی ہےnnمذہبی بلیک میلر، اخلاقیات کی ٹیوشن اور مادیت پرستی کے حوالوں
اور معاشرتی رسومات (چند)nکے پجاریوں nخواہ وہ عورت کی۔ ناجائز عزت
یا مرد کاغیر ضروری احترام ہو
ان افراد سے بچیں۔
یعنی وہ تمھارا جینا حرام کرے اور تم محض مروت میں کہ عورت کے حقوق ہیں، نازک یے ناقص العقل ہے کا مارجن دیتے رہو
اور وہ اسی کو کارڈ بنا کر کھیلے
اور وہ مرد ہےشوہر ہے، تو چاہئے تمھیں خرچہ نہ دیے ، تم پہ تشدد کرے بچوں کو پالنے کی تمیز نہ ہو ، نہ زمے داریاں اٹھائں nاولاد سے زیادہ نوکری اور دوستوں میں دل لگائے
نوکری ضروری ہے، تفریح بھی ضروری ہے
پر گھریلوذمے داریوں اور ناچاقیوں سے فرار ہونے کے لیے نہیں ۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.