پوسٹ – 2021-11-11

شعور/ perception، اور انفارمیشن / معلومات ، کا ماخذ نظام، اور اس کے کام۔کرنے کا طریقہnnسوچنا ایک ہنر ہے، لیکن اس کے لیے،perception یعنیn شعور/ادراک/احساس، یہ کہاں اور کیسے۔ نمو پاتا ہے، اس بارے پہلے کون سی تھیوریز تھیں جن کی وجہ سے، تھنکنگ کو ہنر سمجھا ہی نہیں جاتا رھا، یا سوچنے کے عمل کی سمت کو غلط پورٹرے / پیش کیا جاتا رہا، nاور پھر برسہا برس کی تحقیق اور غلطیوں سے سیکھنے کے ںعد،آج ماہرین کی کیا رائے ہے، پرسیپشن اور انفارمیشن بارے یہ جاننا ضروری ہے، کیوں کہ یہی دو چیزیں ہیں جو آگے چل ہر سوچنے کے ہنر کے در، وا کرتی ہیں۔۔ nnجیسا کہ گذشتہ تحاریر میں، بیان کیا گیا تھا کہ، سوچنے کے عمل پہ تو بہت باتیں ہو چکیں، سوچیں کس طرح پراسیس ہوتی ہیں، کس طرح، ہونی چاہیں ، کس طرح نہیں ہونی چاہئے، وغیرہ وغیرہ nلیکن، “سوچا کیسے جائے”، یعنی nسوچنا سیکھنا، بالکل ایک اسکل سیٹ / ہنر کی طرح ہیں nاور اس کے لیے، “سوچ کے اجزائے ترکیبی” یعنی ingredients، پتہ ہونے چاہئیں، کہ سوچ بننے میں، کون سے عوامل یعنی فیکٹرز، کارفرما ہوتے ہیں۔
پھر تذکرہ آیا کہ، “شعور/ ادراک/احساس” جسے “perception” بھی کہا جا سکتا ہے، در اصل ہوتا ہے سوچ کو جنم / تشکیل دینے کا ذمے دار، اب وہ سوچ کیسی ہے، اس کو پراسیس کیسے کرنا ہے، یہ سب بعد کی چیزیں ہیں۔۔ لیکن ماہرین سماجیات/ نفسیات اب اس بات پہ متفق ہوچکے ہیں کہnnشاید ، ایک عرصہ دراز تک، انسانیت نے شعور/ادراک پہ توجہ نہیں دی تھیn(توجہ تو درکنار، پاکستان جیسے معاشروں میں تو اکثریت ان کا مطلب تک نہیں جانتی)nبہرحال، عمومی طور پر ،توجہ کا ارتکاز (فوکس) ، شعور/perception وغیرہ پہ اس لیے نہیں رہا ،برسوں پہلے تک، اس سوال کا جواب نہیں تھا کہ ،
شعور/ادراک/احساس(perception)، کام کیسے کرتا ہے ؟
اور اس جواب نہ ملنے کی وجہ یہ انسانیت کا، سوچ/ نفسیات/ ذہن / یادداشت بارے ایک غلط عقیدہ تھا nوہ عقیدہ بیان کرنے میں تھوڑا خشک، بوریت بھرا اور مشکل ہے پر توجہ سے۔ پڑھ کر ذرا کوشش کریں سمجھنے کی کہ سوچنے کی اسکل(ہنر) کے لیے ںہرحال perception،سمجھنا اہم ہے، اور، perceptionکے لیے یہ تھیوری(نظریہ)nوہ تھیوری / عقیدہ یہ ہوا کرتا تھا nnہم یہ سمجھتے تھے کہ ، معلومات کی پراسیسنگ اور شعور/احساس/ادراک (perception)، دونوں ایک ہی ساتھ جڑے ہوہے ہیں، دماغ/نفسیات کی ایک ہی تہہ پہ موجود ہوتے ہیں، اور جس تہہ پہ وہ موجود ہیں، اس تہہہ کی اپنی کوئی، سرگرمی نہیں
یعنی وہ تہہ جہاں، معلومات ریکارڈ ہوتی ہیں، وہ زندہ نہیں، وہ محض ایک بےجان مشین (ریکارڈنگ ڈسک) جیسی ہے، جو ایکٹو نہیں جس کا کام بس معلومات محفوظ کیے جانا ہے، اور ان معلومات کو حرکت۔ دینے/ پراسیس کرنے کے لیے، خارجی قوت یا فیکٹر کی ضرورت ہے( جو یقینا اس تہہ سے باہر ہویا اسی میں موجود ہو، لیکن ہو ںہرحال، اسی نظام سے نتھی۔۔ جو سوچوں کو محفوظ رکھتا یے،تاکہ، سوچوں کو منظم رکھا جا سکے، ترتیب دیا جاسکے،انہیں پراسیس کیا جا سکے، انہیں، حرکت دی جا سکے، ان سے، کوئی “سینس” بنائی/اخذ جا سکے۔۔جیسے انگریزی میں ، نارملی کہتے ہیں۔۔ (makes sense)nیہ ہے، وہ تھیوری، وہ عقیدہ، جس نے، ہمیں شعور، آگاہی، ادراک /perception کی موجودگی یا وہ کسطرح کام کرتا ہے، nسے گمراہ کیے رکھا۔۔ nلیکن اب۔
یہ بات مانی جاتی ہے
شعور/ادراک/احساس/ perception، nمذکورہ مفعول تہووں (passive information system)nسے نتھی نہیں۔
کہ معلومات بھی جس تہہ میں محفوظ ہیں وہ تہہ بذات خود کوئی سرگرمی نہیں رکھتی (اسی لیے پیسو کہا جا رہا )nبلکہ، شعور/perception، باقاعدہ ,، ایک ایکٹو، اور خود کو منظم رکھنے والے(self organizing)، معلوماتی نظام میں، برپا / وقوع پذیر ہوتا ہے۔
یعنی وہ تہہ جس میں سوچیں/ معلومات محفوظ ہوتی تھیں، وہ کوئی ڈیڈ /پیسو نظام / تہہ نہیں، بلکہ انتہائی منظم معلوماتی نظام ہے، اور دماغ میں موجود اعصابی خلیوں کے نیٹورک(nerve networks)، اس نظام کو چلاتے یعنی آپریٹ کرتے ہیںnnاس کا مطلب یہی ہوا کہ، nمعلومات کا محفوظ ہونا ، یہ ایک الگ سرگرم۔نظام ہے
اور جس تہہ میں(ہارڈ ڈسک کہہہ لیں) محفوط ہو رہی ہیں، وہ بھی ایکٹو ہے، اسکی اپنی سرگرمیاں ہیں،
اج کے دور میں، اگر سمجھنے کے لیے دیکھیں تو
کمپیوٹر یا موبائل یا یو ایس بی میں ڈیٹا، جو محفوظ ہو رہا ہوتا ہے، تو کیا جس سطح(ڈسک) پہ محفوظ ہوتا ہے، اس کی اپنی پروگرامنگ، اس کا اپنا سافٹوئیر، اس کے اپنے کوڈز الگ سے موجود نہی،ہوتے ، ؟ جو انفارمیشن کے ساتھ کیسے اور کیا کرنا ،ہے ، ڈپلیکیٹ ہوجایے تو کیا کرنا ہے، وائرس اجاے تو کیاکرالنا یے
ڈیٹا نہ بھی ہو تب بھی ، اس جو کمپیوٹر میں لگاتے ہی نوٹی فیکیشن نہیں آتا ؟ یہی ہوتا ہے ایک بظاہر خالی ڈسک کی تہہ میں چلتا مکمل الگ اور ایکٹو نظام، nتو اس سب کا مطلب کیا ہوا؟nnمحفوظ شدہ معلومات کو، مخصوص گروپس، سیریز، ترتیب واد(sequentially)، مینیج کرنا ، انہیں مخصوص پیٹرن میں محفوظ رکھنا ،یہ سب ایک ہی جگہ ہو رہا ہوتا ہے ؟
لیکن ساتھ پوتے ہوئے بھی نتھی نہیں ہوتا،
معلومات جہاں محفوظ ہوتی ہے، nاس جگہ اس تہہ کی بھی اپنی الگ ایکٹویٹی ہوتی ہیںn(کمپوٹر والی مثال دیکھیں)nاور ، معلومات کے
مخصوص گروپس، سیریز، ترتیب واد(sequentially)، مینیج ہونے، انہیں مخصوص پیٹرن میں محفوظ کیے جانے کو آپ اس طرح ریلیٹ کرسکتےہیں۔۔
خشک زمین پہ، برسات ہو، تو ایک خودکار نظام کہ تحت، پانی، ندی نالوں، اور بہت سی دوسری آبی درجہ بندیوں میں بٹ جاتا ہے
۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.