خدا تمھیں بدلتے ادوار کے زیر و بم دیکھنا نصیب کرے، nmay you live in interesting timesnبقول شخصے ، یہ ایک، چائنیز بدعا ہے، جس کا مطلب ہے، تم مختلف ادوار کو اپنی آنکھوں سے بدلتا دیکھو۔
اور یہ بہت ںہت بہت اذیت ناک عمل یے۔۔
اس کو سب سے زیادہ ریلیٹ وہ افراد کرسکتے ہیں، جن کا لڑکپن، نوے کی۔ دہائی میں گذرا۔
جو آج پینتیس سے چالیس کے بیچ ہیں
آج، ایسے زیادہ تر افراد، یا تو، اس دور کی موج مضطر میں بہہ کر خس و خاشاک ہو چکے۔۔ nیا پھر، nخود کو، مس فٹ محسوس کرتے ہیں۔
بعض ایسے بھی ہیں، جو بیس سے تیس کے درمیان ہیں،، جو کم عمر ہوتے ،ہوئے بھی میچور افراد کی سنگت پسند کرتے ، خصوصا ، کم عمری میں، کسی بھی وجہ سے، غور وn فکر، تدبر، کی طرف مائل رہنے والے، وجہ خواہ، مطالعہ ہو یا کچھ اور۔
ایسے افراد بھی بھلے سے نوے میں اواخر میں
پیدا ہوئے۔nn۔۔ لیکن، وہ اپنے ایج گروپ میں مس فٹ محسوس کرتے ہیں
انہیں اوائل عمری میں ہی، خود میں ،پرانی سی روح محسوس ہوتی ہے،
انہی۔ کلاسکل موسقی پسند ہوتی، خاموش رستے بھلے لگتے، شہروں کی دوڑتی بھاگتی زندگی سے پرے دور افتادہ بسنا چاہتے
انہیں کامیڈی بھی پرانی کندن اور ڈرامے بھی وہ پسند جو ان کی پیدائش سے پہلے بنے۔۔ یہ اپنے ساتھ کے ایج گروپ میں مرجھائے رہتے ہیں، یہ ان سے بور، وہ ان سے تنگ۔۔ nیہ،
چائے پہ مرنے اور لائبریریوں کو ترسنے والےnn بظاہر کم عمر لیکن درحقیقت میچور روح رکھنے والے افراد سمجھ لیں۔۔کہ nبہرحال اس بدعا کے جال سے نکلنے کے چند ہی راستے ہیں
ادوار کے زیر و بم سے ہم آہنگ ہوجاو۔
حماقت اور لچر پن کے ہمنوا ہوجاو
گوشہ نشین ہوجاو
یا پھر
سوچنا شروع کرو تمھارے موجودہ نظریات، جو تمھاری نفسیات پہ پنجے گاڑے ہوئے ہیں۔ انہی۔ کس طرح جھٹکا یعنی unlearn کیا جا سکتا۔۔ہے۔۔, unlearn کیا ہوتا ہے
موجودہ، سوچ، نفسیات، رویے، رجحانات، کیفیات، کسی طرح کے تعصبات کے ماخذ کو تاخت و تاراج کرکے، اپنی شخصیت کی، وائرنگ دوبارہ سے کرنا
لیکن، اس سے پہلے۔۔۔ nآپ کو سوچنا اور سیکھنا یے کہ “سوچا کیسے جاتا ہے۔۔”
پوسٹ – 2021-11-08
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد