پوسٹ – 2021-11-06

پس اندیشی یعنی hindsight اور دور اندیشی یعنی foresight nکا فرقnnتو بات ہو رہی تھِ ، nسوچنے کے عمل کو سیکھنے nسوچ کو پیدا کرنے والے ، اجزائے ترکیبی nوغیرہ کی nموضوع تھاnn” ہر تخلیقی خیال(creative idea) ، وژن، innovative سوچ،
فیصلہ ، اپنی عملی شکل میں آنے کے بعد، hindsight یعنی پس اندیشی کے زاویہ نگاہ سے۔ مکمل منطقی ہی محسوس ہوتا یے۔۔”nnجس کو چند مزید مثالوں کے ساتھ کھول کر بیان کرنا ضروری ہے nnآج اگر کوئِ یہ سوچتا ہے کہ nایک سے لے کر ، سو تک ، ہندسوں کو ، چند سیکنڈ میں جمع کر کے نیتجہ نکالنا ہے nتو ، اس ماڈرن دور میں n”وقت بچانے کے لیے ، ایسا سوچنا ، انتہائی ، منطقی ہے “nلیکن ، جب ، حساب کتاب کرنے والی ، کوئی بھی مشین ایجاد نہیں ہوئِ تھی nاس دور میں جھانکیں ، تو آُپ کو احساس ہوجائے گا کہ ، اس وقت کے کسی انسان کے دماغ میں ، یہ خِیال آنا ، لاجکل تھا یا تخلیقی ؟
یہ فرق ہے ۔۔ nnجب آُپ، آج کے دور میں جیتے ہوئَ ، بہت سی ایسی چیزیں ، دیکھتے یہں ، جو عام ، منطقی اور آسان فہم لگتی ہیں ، لیکن ، جب وہ چیزیں موجود نہیں تھیں ، وہ اجزائے ترکیبی یعنی ٹیکنالوجی موجود نہیں تھی nتو ایسے تمام خیالات کا ، آنا ، محض تخلیقی سوچ کا نتیجہ تھا۔۔ تبھی تو، تخلیقی صلاحیت کے لوگ ، اکثر زمانے سے آگے سوچ کر ، ذلیل ہورہے ہوتے ہیں ، کیوں کہ ، اس وقت کا معاشرہ ، ان کی منطق، ان کی سوچ، ان کے ذہن کی وہ اپروچ ہی نہیں ہوتی nاور یہ بات بھی ، عام ہے کہ ، انسان جس چیز کو سمجھ نہیں پاتا، اس سے عموما چڑںے لگتا ہے nکیوں کہ ، سمجھنے کے لیے ، دماغی محنت درکار ہے ، اور انسان کا دماغ، nعموما، “آسان فیصلوں” یعنی nچھوڑو یار کون دماغ کھپائے “nکی طرف زیادہ مائل ہوتا ہے ، nکہ ، سوچنے سمجھنے ، غّور کرنے ، میں لگتی ہے محنت و مشقت، جو کمفرٹ زون سے باہر ہوتی ہے ۔۔
اس وجہ سے ، تدبرو تفکرو کا کہا گیا ہے — nبہرحال nnآج اگر کوئِ یہ سوچتا ہے کہ nایک سے لے کر ، سو تک ، ہندسوں کو ، چند سیکنڈ میں جمع کر کے نیتجہ نکالنا ہے nتو ، اس ماڈرن دور میں n”وقت بچانے کے لیے ، ایسا سوچنا ، انتہائی ، منطقی ہے “nnلیکن ، جس وقت ایسا ممکن نہیں تھا ،اس وقت ایسا خِیال آنا ، اور اس کی طرف کوشش کرنا ، کہ ایسا کیا کیا جائے ، کہ یہ ہندسے ، چند سیکنڈ میں ، جمع کرلیَ جائیں nیہ اپروچ یہ عملی کوشش، بہرحال تخلیق کے زمرے میں آتی nnاور آسان سمجھیں
nایک چیونٹی ہے nوہ ، شاخ یا تنے پر موجود ہے ، اسے ایک مخصوص شاخ پر موجود ، مخصوص پتے تک پہنچنا ہے nجس شاخ یا تنے پر موجود ہے ، اس سے آگے بڑھنے پر ، اس کی راہ کھوٹی ہونے کا چانس، قدم قدم پر موجود ہے ، کیوں کہ ، دوسری شاخیں بھی ہیں ، دوسرے پتے بھی ہیں ، nنظروں سے اوجھل ہونا ، ہوا کا چلنا ، شاخوں اور پتوں کا لہلہانا ، خود چیوںٹی کی نظر، اس کا اپنا بیلنس سنبھالے رکھنا یہ سب ، معاملات ہیں nاور عین ممکن ہے ، ان میں سے چند یا ، سب کی وجہ سے ، چیونٹی اس مخصوص پتے یا شاخ تک پہنچنے کے بجائے ، کوِئی اور روٹ پکڑ لے ۔۔
ہزاروں کوششوں میں کوئِ ایک ہی کامیاب ہوسکے گی ، رائٹ ؟ nزیادہ چانس ، یہی ہے کہ ، وہ ناکام ہو ، یا لمبے روٹ سے چل کر پہنچے یا گمشدہ ہوجائے یا درخت سے ہی نیچے گر جائے ۔۔nnاب دوسرے زاوے سے دیکھیں nوہی چیونٹی ، پتے پر بیٹھی ہے nاور اسے ، درخت کے تنے تک جانا ہےnnظاہر ہے ، آسان ترین کام ہے ، تنا مضبوط ہے گڑا ہوا ہے ، سامنے ہے ، واضح ہے ، چیونٹی کو بس سیدھا سیدھا سفر کرنا ہے nتو زیادہ چانسز یہ ہیں کہ ، وہ تنے تک آرام سے پہنچ جائے گی nnبس یہی فرق ہے ، hindsight یعنی پس اندیشی اور دور اندیشی کا nnپتے پر بیٹھ کر ، تنے کو دیکھنا = hindsight ، یعنی منزل پر پیدا ہونا یا منزل پر موجود ہونے کے بعد ، راہوں پر تبصرے ، یا آسان سمجھنا ، یا کہ یہ تو انتہائِ منطقی ہے
اور دور اندیشی یعنی foresight یعنی تنے پر موجود ہوتے ہوئَ ، پتے پر پہنچنے کی کوشش، nتو گویاnhindsight ٘ میں ، بہت سی ایسی چیزیں ، بہت سے فیکٹرز، consider کرنا مشکل ہوتا ہے ، جو nforsight میں ، nرکاوٹ ہوتے ہیں nnاور آسان کریں n”آپ ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے ہوں ؟
آُپ کتنے آرام سے سمجھ لیتے یہں ، کہ ہاں خدا ایک ہے ، یہ کائنات اس کی ملک ہے ، nآپ کو اسلام کے لیے کوئِ قربانی نہیں دینی پڑی nnآُپ کو پیدا ہوتے ہی مل گیا تو بڑی آسانی سے لاجکل لگتا ہے یہ سب nسوچیں جب ، دور جاہلیت تھا، nیا کسی بھِی نبی کے دعوت کے آغاز میں کیا حال تھا
آج بھی دیکھ لیں ، کوئی غیر مسلم ، جب ، تگ و دوو کر کے پہنچتا ہے تو معاملہ تخلیقی ، منطق یا ، ایمان یا سب ، میں سے ، کس کا زیادہ ہوتا ہے nاور پھر وہ لوگ زیادہ ، باعمل کیوں ہوتے ہیں nکیوںکہ ہو
اسلام کے آئڈیاز کو ، واٹس ایپ پر دو دو روپے میں نہں بیچ رہے ہوتے — کہ بس میسج فارورڈ کردو، اور جنت کا ٹکٹ کٹوا لو ، لیکن ، عمل میں زیرو– nوہ اصل میں ، پریکٹس کررہے ہوتے یہں ، اسلیے ، غیر ضروری یا جعلی ، بے عمل تبلیغ کا نہ وقت ہوتا نہ ہی ، ضرورت، ان کو ویسے ہی اپنی پڑِ ی ہوتی ہے کہ ، ہم اچھے ہوجائیں nامت کے گردوں کا درد نہیں اٹھتا پھر۔۔nnیہ ہے، بنیادی وجہ ، سوچنا نہ سیکھ سکنے کی کہ ، اس طرح کے عوامل کو قبولنا تو درکنار، ہمیں پتا ہی نہں ہوتا ان چیزوں کا۔
اور یہ تک شعور نہیں ہوتا کہ ، ہم نہیں جانتے nکیوں کہ “میں نہیں جانتا، میں کیا نہیں جانتا”nیہ جاننا بذات خود ایک علم ہے ۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.