اچھی اچھی باتیں، پند و نصائح، فکشن اور حقیقی زندگیnnخوبصورت باتیں، اچھی باتیں، پند و نصائح nکتاب میں ہو یا پوسٹ میں۔
عموما nnجو چیز لکھی ہوئی ہوتی ہے۔
وہ پاکستانی معاشرے میں نہیں ہوتی
جو چیز پاکستانی معاشرے میں نہیں ہوتی
وہ لکھی ہوئی نہیں ہوتی۔۔ n۔
ورنہ۔۔۔ nکیا وجہ ہے، کہ کسی ایک شہر کے لوگ
مخصوص مواقعوں پہ کسی بھیnAct of kindnessnکو باقاعدہ ، سوشل پروف کے طور پر بیچتے ہیں۔۔ nیہ دیکھو ہمارا شہر ایسا
ہم پاکستانی ایسے nایسا ہے ہمارا شہر
وغیرہ وغیرہnnاس کا مطلب یہی ہے نا کہ اگر کامن ہوتا، تو یونیک نہ لگتا
کتابوں، پند و نصائح میں لکھیں ،باتین چونکہ، ہم میں عملا نہیں( ہیں تو بہت ہی کم)nاس وجہ سے، جب کتاب سے باہر کویی چیز نظر آتی ہے، nAct of kindnessnتبھی ہمیں ایسا مزا آتا ہے، کہ جیسے فکشن حقیقت میں بدل گیا۔۔ nاور پھر ہم پتہ نہیں کیوں سماج (پاکستانی اور پاکستان سے باہر) سوشل پروف دینے چل پڑتے ہیں۔
کیوں کہ ہمیںnValidationnدرکار ہوتی ہے۔nValidationnکسے درکار ہوتی ہے nجنرلی اسے، جسے پتا ہو کہ وہ ہلکا اور کھوکلا ہے۔۔۔ nورنہ، مچھلی کیوں کسی کو پروف دے گی، اپنے تیراک ہونے کا
چیتا کیوں، وائرل کرے گا اپنی تیز رفتاری کی وڈیو
اسے پتا ہے یہ نیچرل کورس ہے اس کا
کوئی خاص یونیک نیس نہیں،
اسی طرح احسن و تقویم پہ پیدا کیا جانے والا انسان
اپنی اجتماعی اور انفرادی اچھائیوں کی بطور سوشل پروف کیون مارکٹنگ کرے گا، اور پھر دوسروں کو جتائے گا بھی کہ دیکھو میں یا ہمارا معاشرہ ایسا ہے وغیرہ وغیرہ۔۔ nخیر پاکستانی معاشرہ (استثنائی باتوں سے قطع نظر)nکتنا احسن تقویم پہ رہ گیا ہے۔ یہ خود ہی نوٹ کرلیں nہاں چند افراد اسے ترغیب و تبلیغ اور اچھائی پھیلانے کے لیے بھی استعمال کرتے ہہں، پر عمومی طور پر، nہمیں ویلیڈیشن اور سوشل پروف، بطور سماج اپنے کھوکھلے اور دورنگے ہونے کی وجہ سے درکار ہوتا ہے۔۔
پوسٹ – 2021-10-28
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد