سنو لو کوئین تمھیں ذرا بھی حیا نہ آئی ایک اکیلی ، عورت پہ ستم ڈھاتے، تم نے ثابت کردیا، عورت عورت کی دشمن ہے، تم وہ ناگن ہو جس نے اپنی سگی اولاد کا بھی نہ سوچا۔ ہائے نیٹلی نے تمھارا کیا بگاڑا تھا۔۔۔ کیا کہتی تھی وہ تمھیں، محض ایک آرٹسٹک مائنڈ خوش مزاج ، اپنے شوہر کی نگران آنکھوں سے چھپ کر چند لمحے خوشیوں کے کشید کرنا چاہتی تھی۔۔ اور تم۔۔۔۔ تم لو کوئن تم نے کیا حاصل کرلیا اسے مسمار کر ہے، جس عورت کے لیے لٹریچر تخلیق ہوا تھا، اسی کو تم نے بے روح کر ڈالا ،مجسم کتاب کردیا ۔۔ اک فراموش باب کردیا ۔۔ اس کے ہرتعلق کو عذاب کردیا۔۔۔ nپتہ ہے نہ ، کتابوں میں، چرمرائے پھول، محض یادداشت میں ڈنگ مارتے ہیں، نہ کہ ماضی کی خوش کن ہواوں کو دعوت دیتے ہیں یہ جانتی ہو کہ اس نیٹلی نامی گلاب کی خوشبو۔ اب چہار سو پھیلے گی، اورتمھسری گھٹن زدہ زندگی کا مزید۔ گلا گھونٹے گی۔۔ جان لو ۔۔۔ نیٹلی زندہ ہے ۔۔ نیٹلی زندگی ہے۔۔ نیٹلی ہر کہانی کا آغاز ہے، پلاٹ کا ٹوئسٹ ہے۔۔۔اسی کے قدموں کی دھول ادب کی پیشانی پہ بمثل برکت آویزاں ہے، ورنہ ادب تمھارے ہنری کی طرح بن ماں کی اولاد ہوجاتا۔۔۔۔ nاور ہاں، سوری راقیل۔ سوری سبز انکھوں والی کچھ دن اتنظار کروnnاگر نہ مگر نٹلی نگر۔۔۔

اترك رد