پوسٹ – 2021-10-24

کاپی رائٹنگ کورس – Copywriting Coursennساتویں قسطnnگذشتہ قسط میں بیان گئے، سرعت انگیز فارمولے (quick start)nپہ تفصیلی بات کی گئی تھی، چار ٹکڑوں پہ مبنی اس فارمولے کو کیسے کیسے پیش کیا جاتا ہے اور اس کا کیا اثر پڑتا ہے، nآج کی قسط اسی پر مرکوز ہےnnاسی فارمولے کو پیش کرنے کے چار، مختلف انداز /۔ variations ہیںnnآپ اپنی پروڈکٹ اور سروس کی مناسبت سے، کوئی سا ایک ورژن استعمال کر سکتے ہیں، ضروری نہیں چاروں کریں۔ n۔nnپہلی شکلn”ہاں اور” – yes andnnدوسری شکل n”ہاں مگر” – yes but, nnتیسری شکلn” نہیں اور” – not and nnچوتھی شکلn” نہیں مگر – no butnnیہ چاروں انداز ، مذکورہ فارمولے کے ہی ہیں، اب فردا فردا ان کی اہمیت، وجہ اورصارف کے زہن پہ پڑنے والے اثر کام۔nnآئیے دیکھتے ہیں کہ ان تمام variations کا اطلاق کیسے ہوتا ہےnn nہاں اور – yes andnnاس کے استعمال کی ایک مثال
آپ کسی فوڈ پراڈکٹ/ ہیلتھ سے متعلق پراڈکٹ / سروس کے لیے کاپی رائٹنگ – copywriting کررہے ہوں ، جس میں آپ موٹاپے پہ بات کرنا چاہتے ہوں
تو اس کی کاپی رائٹنگ میں مذکورہ ” ہاں اور” کیسے اپلائی ہوگی ؟
درج ذیل جملہ چیک کریں۔nn”جی ہاں” nکارب (carbs) یعنی کاربوہائیڈریٹس میں موجود نشاستہ، (starch) یا چینی وغیرہ آپ ،موٹاپے میں مبتلا کردیتے ، nn”اور”nnیاد رکھیں
موٹاپا آپ کو
ذیابطیس ( diabetes ) شوگر کی طرف لے جاتا ہے، nn”جی ہاں، اور
“اور”nnکے بیچ کا کانٹینٹ آپ کی اپنی تخلیق ہے، اصل چیز، ان الفاظ کا استعمال ہے، اسی ترتیب سے۔
اور یہ بھی سمجھ لیں کہ ضروری نہی۔ کہ اپ “جی ہاں'” ہی لکھیں، آپ کویی متبادل لفظ لکھ سکتے ہیں، اصل چیز nیہ ہے کہ آپ نے، پہلے “اقرار/ اثبات / اگری” کرنے والی کیفیت دینی ہے۔nnاب یہ جانتے ہیں کہ یہ الفاظ اس طرح الفاظ کرنے سےصارف کی نفسیات پہ کیا اثر پڑتا ہے۔
اس کے لیے آپ کو nکنفرمیشن confrimation bias کیا ہوتا ہے یہ سمجھنا پڑے گا
یہ سوچوں کا ایک زاویہ ہوتا ہے، nجس کا آسان ترین مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے دماغ میں پہلے سے ،موجود کسی عقیدے / خبر/ معلومات کو کنفرم کرنے/ ثبوت حاصل کرنے کی تگ و دو کریں۔
مثلا آج آپ نے اپنی بات/ عقیدہ/ سوچ جو آپ کےخیال میں ٹھیک ہے، اس کا ثبوت دینا ہے ، کسی کو ثابت کرنا ہے تو آپ کیا کرتے ہیں
فورا سے محض وہی لفظ وہی جملے لکھ کر گوگل پر سرچ کرتے ہیں، اور وہی مخصوص معلومات اور اس سے جڑا اپنے فیور کا سچ ،دوسرے کے سامنے رکھ دیتے ہیں ؟
اسی سوچ اور عمل کا نامn’کنفرمیشن bias ہے
یعنی اپنے دماغ میں پہلے سے موجود کسی عقیدے / سوچ/ گمان کو سچ ثابت کرنے کی تگ و دو کرنا
یہ انسان کی عمومی نفسیات کا حصہ ہے، nاسلئے بھی ہم، اپنی سوچ تک محدود رہتے ہیں، ذہن / غور و فکر کی، ارتقائی بلندیوں کی طرف پرواز نہیں کرپاتے ،
لیکن یہ نفسیاتی پہلو یعنی confrimation bias nبطور کاپی رائٹر مفید ثابت ہوتا یےnnکنفرمیشن بائسڈ۔ – confrimation bias اور کاپی رائٹنگnnںہرحال
کاپی رائٹنگ میں، جب آپ کوئ چیز / پراڈکٹ ، پروموٹ کررہے ہوں/ بیچ رہے ہوں۔
تو ، آپ نے
سب سے پہلے، انسان/ صارف کے دماغ میں پہلے سے موجود
انفارمیشن جو کہ سچ بھی ہے n”کارب(کاربو ہائیڈریٹس) موٹاپے کا سبب ہے، nکو ٹارگٹ کیا
اس کی توثیق کی، nکہ جی ہاں۔۔۔ ایسا ہی ہے۔
اس کے بعد آپ نے اس کنفرمیشن پہ ایک اور تہہ جما دی nn”اور ” کی تہہ۔
کہ موٹاپا تو ہے ہی، اور اس کے ساتھ ساتھ شوگر بھی ہو سکتی ہے۔nnکفرمیشن بائس – confrimation bias، نامی نفسیاتی پہلو کی وجہ سے، nیہ “ہاں اور” nوالی variationnبہت فائدے مند ثابت ہوتی ہے، آپ کی پراڈکٹ پہ اعتماد کروانے کے لیے،۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.