پوسٹ – 2021-09-24

کردار نگاری اور ہائے افف اللہ مار ہی ڈالا ظالم والی سوچnnدل لگا کر پڑھنے کا مطلب ہوتا ہے ، علم سے دل لگانا ، مس سے نہیں nاسی طرح دل لگا کر دیکھنے کا مقصد ہوتا ہے ، کہانی ، کردار، استعاراتی معنوں میں سمجھنا، اداکاری کی تعریف ، نہ کہ ، کرداروں کو دل سے لگا لینا
برلن ، پروفیسر، ریگنار، وہ بلیک لسٹ والا گنجا ہدہد ، کیا نام ہے اس کا یار۔۔۔۔ ہاں ریڈنگٹن کو دیکھ کرn ہائے میں لٹی گئی nہائے اوئے منے کے ابا آگئے nان کرداروں کو “ان” ان ان کر کے کھسم بنا لینا
حتی کہ ، ٹوکیو ، نیروبی ، لیگارتھا، وغیرہ کو دیکھ کر بھِ اس کے حسن پر باتیں کرنا ، جبکہ nعورت کے حسن کی تعریف اگر عورت کرے تو وہ بے تاثر سی ہوتی ہے ، مثلا کوئِ چھ فٹ کا بندا، چھ فٹ کے بندے کو کہے ، یار تو تری ہائٹ کتنی اچھی ہے ، پوائنٹ از، مرد مرد کی تعریف کرتا ہے ظاہری خواص کی ، تو اس کی تاثیر کیا ہونی ہے ؟
خیر ، nچلو ، عورتوں کو مارجن دیا جا سکتا ہے ، کہ ، انکا لینا دینا ہی کیا ، تجزیاتی حس سے ایک حد تک منطق کرنے کے بعد ، انہوں نے ، ہائے اللہ کتنا کیوٹ ہے نا ، کتنا پیارا ہے نا ، آنکھِں میچ کر املی ہی کھانی ہوتی ہے ، تعریف کرتے ہوئے اف اف کاش کاش ، ہائے مجھے تو کرش ہورہا ہے کرتی رہتی ہیں ۔۔n ، وہ اگر یہ سب کرتی ہیں ، تو سمجھ بھی آتا ہے ، اور وہ کرتی اچھی بھی لگتی ہیں ،ان کے اندر جذباتی انٹیلجنس دی ہی اس لیے گئی ہے ، ان کی نزاکتیں ، ان کی شوخیاں ، ان کی دل لگیاں ، ان کے کیوٹ کیوٹ سے ، کمنٹ، مزے دار ہوتے ہییں nکمفرٹںگ ہوتے ہیں ، ان سے ، زیادہ لاجک ایکسپٹ کرنا ، ان پر ظلم ہے اور مرد کی حماقت ۔۔ nلیکن ، جب مرد یا یوں کہیں ،بظاہر مرد کو دیکھتا ہوں ، خواہ کسی بھی ایج گروپ کا ہو وہ nجب ۔ کرداروں کو خواہ ، مرد ہو یا عورت کردار دیکھ کر ، ان کے ظاہری ، خواص اور زیادہ تر ان خواص کی تعریف ہورہی ہوتی ہے ، جو ایک خاص عمر کے بعد ، مرد میں ویسے بھِ آجاتے ہیں ، اور نہیں آئیں تو آجانے چاہیں nمثلا ، آواز، مثلا، بولنے کا انداز، مثلا، بات کا استحاق، مثلا، چہرے کے تاثرات سے زیادہ ، محض ، آنکھ سے ڈلیور ہوتی کیفیات اور اس میں مدغم ، تاثرات سے بھرپور آواز، لوچ دار کھسرا نہ ہو ، بس ، لیکن ، آواز میں ، زیروبم ، ایسا جھلکے کہ ، چھاتیوں میں ٹائم بم ٹک ٹک کرنے لگے ۔n اور اب اگر ظاہری خواص سے مرد کے متاثر ہونے کی بات ہو تو
میرے گھر کی طرف، ایک پان والءے شکل کی ، ریگنار سے ملتی ہے ، برلن سے ملتا جلتا ایک بندہ کچھ دن پہلے یہاں چنگچی میں دیکھا ہے nتصویر بھی کھینچی تھی اور ہنسا بھی تھا کہ ، دیکھو برلن ، جس کے لکس پر مررہے ہیں یہ فیس بک پر ، یہاں چنگچیوں میں کھجل ہو رہا ہے ، خیر ، ظاہری خواص پہ کیا توجہ دینی ، اگر شخصی بہتری زیرو ہے ۔۔ اور ویسے بھی ، nحد نہیں ہے مطلب ؟ جب کہ ، برلن پلے کرنے والا ایکٹر خود کہہ رہا ہے ایک انٹرویو میں ، کہ بھائی یہ کوئی ایسا عمدہ کردار نہیں برا کردار ہے ، نفسیاتی ہے ، اور اسے پسند کرنے والے اپنا علاج کروائیں nپھر بھِی ، یہاں والے برلن سے زیادہ برلن کے ابو بنے ہوئے ہیں لول nخیر ، اداکاری کی بات ہو تو ظاہر ہے ، بہت بڑا ایکٹر ہے یہ الفانسو نام ہے شاید اس کا ۔ اور ظاہری خواص کی بات ہو تو۔
آواز، شکل ، چہرہ ، چال ڈھال ،
یہ سب ۔ایک خاص عمر کے بعد ، آہی جاتا ہے ، اور ، نہ آئے تو آجانا چاہئے ، نہیں آتا تو ، پھر کوئِ کجی ہے ، کہ اپنی ڈِیولپمنٹ پہ کام نہیں کیا – nباقی ، گیٹ اپ ، میک اپ آرٹسٹ، یہ سب بھی انسان ہیں ، ان کا کام ہوتا ہے ، کردار کے ظاہری خواص پر کام کرنا ۔ nہاں اس کو کیمرے کے سامنے ، بہترین ڈائلاگ ڈلویری ، پاز اور سٹریس، وغیرہ یہ سب یقینا، اداکار کی محنت ہے ، لیکن وہی بات ، اس میں سے ظاہری ، خواص، گیٹ اپ ، پہ زیادہ بات ہوتی ہے ، لیکن کردار کی نفسیات پہ نہیں ، وہ نفسیات جس کا شاخسانہ اس کردار کو ، ظاہری روپ ہوتا ہے nبلیک لسٹ نامی ٹِی وی شو میں ، ریڈنگٹن کے مقابلے پہ ، ٹاون سینڈ نامی ، کردار اترتا ہے ، بہت ہی کم قسطوں میں آیا ہے ، اس کے ظاہری خواص ، بولنے کے انداز کو رکھتے ہیں ایک طرف، اداکاری کو بھی کردو سائڈ پہ ، کہ گنجا ریڈنگڈن بہت سوں کا بت ہے ، تو اس کے پجاریوں کا دل نہ دکھے ، ان کے ظاہری خواص کو نہیں کرتے کمپئیر کہ میں خود گنجے کی اداکاری کا فین ہوں ، بہت ہی زیادہ ٹِلنٹڈ مانتا ہوں ، پر کردار کے نبھانے کو ، اس کی نفسیات کو ، اس کی کجیوں کو اس کی خوبیوں کو ، نہ کہ nہائَے ہوئے ، ریڈنگٹن کی آواز، ہائے اوئے اس کا انداز ہاے منے کے ابا ، nاس طرح نہیں ، کہ یار تم پچاس سے اوپر کے ہو ، اتنی فلمیں کی ہیں ، یہ سب تو پیس آف کیک ہے نا ۔ اور پھر تم ایگزیکٹو پروڈیوسر بھی ہو ، تو ابو تو بنو گے ، سیزن میں nلیکن یہ ٹاون سینڈ ، اور ریڈنگٹں کے کردار کا موازانہ نہیں nان کے “ماضی” کے ٹراماز کا سٹوریز کا موازنہ ہے ۔ کم از کم یہ پیراگراف ۔
اب تک ریڈنگنٹن کا جتنا ماضی دکھایا ہے ، اس لحاظ ہے ، nرے منڈ رڈنگٹن کے ماضی میں زیادہ سے زیادہ بھِ کیا درد ، کیا ٹراما ہوگا ؟
لیکن دوسری طرح سپوائلر دئے بغیر ، ٹاون سینڈ نامی ، کردار کے ماضی کو دیکھِیں
اور بتائیں ، کہ ، کون سا کردار پاور فل ہے ؟
یہ بھی چھوڑتے ہیں nپھر کہتا ہوں ، عورتیں یہ سب کریں سمجھ آتا ہے nلیکن ، مردوں کا لہک لہک کر بولنے والے سائیکو پیتھ اداکاروں کی تعریفوں میں پجاری ہوجانا ، مضحکہ خیز ہے ۔۔ وجہ ؟
تم خود کو ہلکا سمجھتے ہو ؟
کیا تم چالیس کراس کرنے کے بعد ، اس طرح بولنے کے اہل نہیں ہوکستے ، nکیا کوالٹیز ہیں برلن میں ، کیا کوالٹیز ہیں پروفیسر میں ، جو وہ اتنا زیادہ کشش رکھتے ہیں nابے تو کشش رکھیں نا ، مرد کے لیے کیسے کشش رکھ سکتے ہیں لول nتم خود کیا ہو ؟
ٹوکیو ؟ nبہرحال ، سمپل سی بات ہے کہ ، کردار کو سمجھیں ، پھر تجزیہ دیں ، ہائے وے میں لٹی گئی ، ہائے مرگیا ، ہائے اوءئے کلیجہ کڈ گئی ، یہ نہ کریں nچلو راقیل مونیکا ، لیگارتھا ، آئیرین ایڈلر ، الیزبتھ بوگش ، لبی ہیچ نامی خواتین کی تو خیر ہے ، یہ تو کردار ہی نہیں، یہ تو احساس ہیں — اس لیے تو ان پر کچھ لکھا نہیں جاتا، انہیں کیسے ایکسپلین کرے بندہ ، اب احساس تو خوشبو ہے نا ، خوشبو ہوا میں اچھِ لگتی ہے ، لفظوں کے زندان میں نہیں ، اس وجہ سے بھی ، ان پر کچھ لکھنا ، قلم اور الفاظ کو ، ان کے برابر کھڑا کرنا ہے ، ادب تو ہیچ ہے نا ان خواتین کے آگے ، ویسے بھی ،عمومی بات کی جائے تو خود سے ایک سوال کریں اس موضوع سے قطع نظر
ذرا سوچئے گا
ادب کی پیشانی پہ ، عورت کے قدموں کی دھول ، بمثل برکت آویزاں نہ ہوتی ، تو کیا ادب کی مثال بن ماں کے بچے کی سی نہ ہوتی ؟

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.