ہر ہر ، زاویے سے ذلیل کروا رہے ہیں، اسے nجو جو،اپنے بغض میں، nاس نشئی کو رگڑا دے رہا ہے
کہ اس نے اڈے نہیں، پورا شہر دے دیا، اس سے کھلے میں، پبلک پلیس میں، جہاں رش ہو، خواہ سوشل میڈیا پہ ہی سہی
صرف ایک سوال پوچھیں ؟nnیہ اڈے ، یہ کراسنگ، یہ سٹرٹیجک فیصلے، کب سے ان کمیوں کے ہاتھ میں ہونے لگے، nجنہیں تم لوگ وزیراعظم وغیرہ کہتے ہو
اس سے ابسلیوٹلی ناٹ کہلوانا تھا اسے وقتی بانس پہ چڑھا کر، بانس چڑھانا تھا
کروادیا کتا اگلوں نے۔۔ nخیر ،پھر۔ nپھر پوچھنا، nپتہ ہے نا کہ اسے لانے والے کیا ہیں، کون ہیں، اور یہ فیصلے کس ہے ہیں ؟nnنوٹ کرنا، حب الوطن کے ہیضے کا شکار، مولوی ٹائپ ہوگا تو، پھر آئیں بائیں شائیں کرے گا۔۔۔ اور پھ nمنہ بند ہوجایے تو پھر اسکے منہ پہ ہنسناnnبہرحال، اس نشئ کا کیا ہے، عمر ہی کتنی رہ گئی ہے اصل ذلت اس کے سرکش پجاریوں کی جائز ہے۔۔ وجہ ؟
یہ خود بھی یہی کچھ بیچتے رہے ہیں دھرنے میں۔۔ nیہ برا یہ ایسا یہ ویسا اس کی ایسی تیسی
تو اب ہر ہر فیصلہ ہر ہر دعوہ منہ پہ تو پڑے گا
جو بویا تھا، دھرنے میں (منفیت) اب تو کاٹو گے۔۔
پوسٹ – 2021-08-29
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد