پوسٹ – 2021-08-15

جب کوئی فرد ، شخصی بہتری کی صفر سطح پہ چلاجاتا ہے
جہاں سے شخصی ابتری کی سرحدیں شروع ہوتی ہیں nیعنی اسے پروا نہیں ہوتی کہ اس کی ذہنی و جسمانی صحت، پروفیشنل اسکل، لائف اسکل، ادراک، شعور ، ان سب کو الگ الگ ، خوراک کی ضرورت ہے، لیکن، اس مطمح نظر محض، اگلی تنخواہ ہوتا ہے، تو، اس کے موضوعات گفتگو، انتہائی غیر متعلق ہوجاتے ہیں،n اب چونکہ اسے اپنے مذکورہ عوامل بہتر نہ بنا سکنے کا لاشعوری پچھتاوا ہوتا ہے، وہ پچھتاوا ، بےچینی بنتا ہے، وہ بے چینی، اسے۔ nسیاست اور مذہب کے متفعن گڑھے میں دھکیل دیتی ہے۔
جسے وہ فلسفہ زندگی سمجھ کر سیاسی و مذہبی اکابرین کو پوجتا ہے، اور پھر، خبریں اس کا علم، اور سیاسی ، مذہبی ، عسکری نمائندےاس کا مسیحا بن جاتے ہیں

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.