میری جان،
آتش فشاں نے راکھ کو دیکھا اور سگریٹ سلگا کر مسکرایا
الجھن اور حسرت ، پرشوق نگاہیں، لیے اسے دیکھنے لگی
کشمکش دوپٹے سے منہ پوچھتی کچن سے برآمد ہوئی
حوصلہ انگڑائی لے کر راکھ کو یکجا کرنے لگا، مورت کرنے لگا۔nnایش ٹرے نے سر ٹکایا اور، راکھ کو مجسم ہوتے دیکھ کر اس کی بلائیں لینے لگیnnآتش فشاں منتظر تھا، راکھ کے کاجل ہونے کا
پلکوں کے لرزنے سے حلقوں کے مقبول ہونے تک کا وقفہ، راکھ کے لیے پر کیف تھا
اس کی بزرگی لاڈلی سی ہو رہی تھی nآسمان کالا ہونے لگا nیہ آتش فشانی مسکراہٹ کا شرارہ تھا، آنکھیں مونے وہ راکھ کے پہلو میں آن گرا۔۔۔ nآنکھیں موندی تھیں، فضا میں تپش کی آخری انگڑایئاں ٹھنڈی کالی رات بن رہی تھیں، راکھ آتش فشاں پہ جھکی اور پوچھا
کچھ کہتے کہتے رکے اور ڈھ گئے ؟ ایسا کیوں ؟nnاس نے آنکھیں کھول کر حلقے کو ہولے سے چوما اور کہاnnہر آتش فشاں بالآخر ٹھنڈی راکھ ہی تو ہے، ایش ٹرے میں ہو یا فضا میں ۔۔۔
پوسٹ – 2021-08-11
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد