جگنو nشارٹ سٹوری
حقیقی واقعات سے ماخوزnnاس کے ننھے سے سر کو ، ہتھوڑے سے ضربیں لگاتے ہوئے، میرے دماغ میں بس ایک ہی خلش تھی، دل میں بس اک ہی کسک تھی، جسے میں نے وقتی طور پر نظر انداز کردیا تھا۔ nسامنے پڑا ننھا سا وجود، کسمسا رہا تھا، جان کنی کے عالم میں اپنی ، ماند پڑتی آنکھوں سے میری طرف دیکھ رہا تھا، جیسے وہ کہہ رہی ہو کہ ختم کرو اب سست روی کی ازیت مجھے مکت کردو ، رات بھر سے یہاں پڑی، اپنے نصیبوں کو رو رہی ہوں، کسی نے تشدد کیا تو کسی نے قید، پہلے لاتیں توڑی گئیں، پھر ہڈیاں چور کی گئیں، پھر ہہاں مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا کہ کوئی سڑک پہ ڈال دے ،اور مجھ زندہ کو، گاڑی کچل دے، لیکن تم تو ایسے نہ تھے، تم مری سکرات کے لمحات کو خدارا مختصر کرو، ختم کرو یہ قصہ۔
اس کی باریک سی نسوانی آواز مدہم ہوتی جا رہی تھی، ماحول میں شور بڑھ رہا تھا
اسے اٹھا کر پھینک دو
نہیں چاہیے اس کا غلیظ وجود
اسے سسکنے کے لیے چھوڑ دو، خود تڑپ تڑپ کر مرجانے دو یہ اسی قابل ہے۔
اور میری نفسیات میں اترتا اندھیرا بس ایک ہی جگنو کے تعاقب میں، تھا سوچ کا وہ جگنو جو، کبھی مچل جاتا تھا، کبھی بہک کر گم جاتا تھا،
شور سے بھنا کر میں چلایا
ہتھوڑا لاو۔
کیا کرنے لگے ہو، سوال ہوا
اسے اذیت سے نجات دوں
نہیں نہیں، اسے تڑپنا چاہئے،
ان سنی کرتے ہوئے ہتھوڑا پکڑا اور ،کیل ٹھونکنے والے حصے سے اس کے سر پر ، دو سے تین نپے تلے وار کیے، خون کی دھاریں اس کے آخری بستر کو سرخ کرگئں، اس کی آہیں ادھ کھلا منہ بہت دلدوز تھا، احسان مندی اور اذیت جیسے ایک دوسرے سے گتھم گتھا ماتم گزار ہوں۔
ابھی بھی جان تھی، nفیصلہ کن وار نے اس کے ناقص العقل معز کی سفیدی کو خون سے مل کر ، اس کے وجود کو بقا سے فنا کی طرف دھکیل دیا۔۔ nمیرے ذہن میں پھڑپھڑتا سوالیہ جگنو ، اب واضح تھا
وہ سوال جس کا جواب شاید بہت مشکل ہو۔
ننھی چوہیا اب پھڑک کر ٹھنڈی ہو چکی تھی، nاور میں سوچ رہا تھا، کہ اس کو قتل کرنے کے بجائے، اگر گلی میں واٹر کولر کے بجائے چھوٹا سا گلاس ہی رکھ دیتا تو۔۔۔۔ ؟
پوسٹ – 2021-07-23
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد