پوسٹ – 2021-07-23

رائٹرز ورکشاپ میں ایک لکھاری سے پوچھا جانے والا سوالn’ یار تم، عورتوں والے اسلوب میں مکالمے کیسے لکھ لیتے ہو’nاس کا جوابn’nبھئ، بچپن سے سنتا آرہا ہوں، تمھارے اندر ایک نائکہ ٹائپ عورت ہے، nںچہ تھا تو، جاسوسی ڈائیجسٹ ، عمران سیریز کا شائق اور جب یہ نہ ملتے تو
ارم کرن آنچل شعاع پاکیزہ خواتین ڈائجسٹوں تک پر اتر اتا
مطلب مطالعاتی مجبوری۔۔ nادب کا کوئی تعلق نہیں اس مطالعے سے۔
خیر nلڑکا بڑا ہوا تو کہتے تھے یہ خبیث ، نت نئی نتھ اتری طوائفوں کی سی فسادی زہنیت رکھتا یے۔
تیس سال کا ہوا تو یہ ‘کامپلیمنٹ’ ملا
تم اگر لڑکی ہوتے تو پتا نہیں، کتنے لوگوں سے ایزی لوڈ کھا چکے ہوتے، یا پھر محلے کے کسی لڑکے کے ساتھ بھاگ گئے ہوتے۔۔ nجب کہ لڑکا ہوتے ہوئے، بھی ایزی لوڈ یا بیلنس کھانا کون سا مسئلہ تھا لیکن، یہ سہولیات تھی ہی نہیں۔
خصوصا سن دوہزار کے اوائل میں، جب آپ کا نک نیم یا انٹرنیٹ کی چیٹ ونڈو کا آغاز ہیn’ںاد صبا’ کے نک نیم سے ہوا ہو۔۔ اور پھر اپنے ہر تھرڈ کلاس لیول کا خواتین ماہنامہ شعری مقابلہ پڑھ رکھا ہو، تو آپ کو ، اس وقت کے پاکیزہ ادبی ٹھرکی پروپوز ہی کریں گے۔ nلولnnخیر اب ڈھلتی عمر میں یہ سننے کو ملتا ہےnnپکی عمر کی نائیکہ ٹائپ عورت ہے تمھارے میں۔
اس چکرمیں ساڑھی پہن کر دیکھا بھی ہاں لکس تو وہی آرہے تھے۔۔ nشٹ۔
اب بتاو کیا مشکل ہے، عورتوں کے اسلوب والے مکالمے لکھنا ؟
اس نے دوسرے سے پوچھا nدوسرا کندھے اچکا کر بولا، یار پتا نہیں میں رائٹر تو نہی۔ لیکن ، عورتیں بولتے ہویے، ہر بات میں نا نا نا بہت کرتی ہیں،nnسو بس ہر جملے کے آخر میں ‘نا’ لگا دو nnواٹ۔۔ ویٹ ودف۔۔ nہاں تو ؟ کھسرا ٹائپ ہونا ضروری تو نہیں
دفع ہو یار۔۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.