پوسٹ – 2021-07-22

ایک نجی محفل میں ہونے والی ایک وکیل صاحب کی گفتگو کا لب لباب
یار اتنے زیادہ چپقلشوں کے کیسز آرہے ہیں کہ اب تو محسوس ہوتا ہے۔nnخاندانی نظام ایک مضبوط اکائی ہوا کرتا تھا، بعض جگہوں پہ اب بھی ہے، پر ، جس منافقت ، گھٹیا پن، وی آر دی بیسٹ ، کا اظہار ، اب خاندانی نظام میں ہونے لگا ہے، خصوصا ایسے خاندان، جن کا نہ سربراہ سر پہ، نہ جن کورشتوں کی تمیز، بس دوسروں کی زندگیوں میں جھانکنے
دولت کی بھوک، نفسیاتی ان سیکورٹیز کو دوسروں پہ منطبق کرنا ، تاکہ لوگوں کی نظر اپنے خاندان کہ سستی اور قابل تحقیر زہنیت سے چھپی رہے۔n اور اپنے دامن پہ لگے منافقت ابلیسیت اور دورنگی کے داغوں سے صرف نظر، بات بے بات موازنے، اس چیز نے کثرت سے خاندانی نظام کی ، اچھی تصویر پہ تیزاب ڈال دیا ہے ۔
اور یہ سب دیکھتے ہوئے، nمغرب کا ‘اپنی اپنی باونڈریز’ میں رہنے والا، دوسروں کو منہ نہ لگانے والا ، کھلا بے حس معاشرہ زیادہ بہتر لگتا ہے۔۔ nوجہ ؟
اسلام حقوق العباد کے نام پر یکطرفہ گیم نہیں ہوتے۔
صرف اپنے حقوق ہے بجائے، فرائض پہ بھی بات ہوتی ہےnnکافر معاشرہ بہرحال، پاکستانی مذہبی متعفن معاشروں سے بہتر ہوتا ہے۔۔ nا

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.