پوسٹ – 2021-07-20

اپنی اولاد کو غور فکر سکھائیں، لیکن اس سے پہلے، خود سیکھیں، اور غور فکر سیاسی/مذہبی افیون کو نہیں کہتے۔
غور فکر اس کام میں جو آپ کا پروفیشنل ہے، اور شخصی بہتری، زندگی کے حوالے سے ۔
مذہب (دین نہیں) اور سیاست, مذہبی جماعتوں ، کی اسلام فروش بکواسیات( جب کہ اکثر اوقات، ان کے اپنے کردار ان کی تعلیمات سے متضاد ہوتے ہیں، nnسوچیں کہ یہ سب ،آپ کی شخصی بہتری، اور کوالٹی آف لائف میں کچھ کنٹری بیوٹ کررہا ہے؟
نہیں ۔
تو پھر غورفکر، کیجیے پہلے کہ، اس سب سے نکلنا کیسے ہے
اور پھر نکل کر غور فکر کی کون سی پگڈنڈی اپنانی ہے، جس پہ چل کر، ذہنی ، نفسیاتی، معاشرتی،کمرشل, مالی اور شخصی بہتری تک پہنچا جا سکے nnجب خود یہ سمجھ لیں
تو پھر نوجوانوں اور بچوں کو سمجھائیں
وجہ ؟
پاکستانی معاشرہ، تفکرو تدبرو کی اسفل ترین سطح پہ ہے، متعفن دماغ، بے نوا نسلیں، منزل کا شعور نہیں، اور پھر، وی آر دی بیسٹ کا نشہ، جو فوج، مولویوں اور سیاست دانوں نے مل کر کروایا ہے، اس کی انتہا، ریاست مدینہ کے نام پہ اس کذاب کا دور حکومت ہے۔
لیکن یاد رکھیں، یہ زوال پذیر ہوتے ہی، تفکرو تدبرو والے دماغوں کا کال ہوگا ، یعنی، درکار ہوں گے ایسے دماغ، جو
ذہنی ، نفسیاتی، معاشرتی،کمرشل ،دینیn (اسلامی نظام کے نام والے مذہبی فراڈ نہیں), مالی اور شخصی بہتری کی معراج کو چھو رہے ہوں ۔ nnزیادہ نہیں دس پندرہ سال کے اندر اندر، سوچنے والے دماغوں کی تلاش کرے گی انسانیت، تو پھر پہلے سے تیار ہوجائیں،
کیوں کہ بہرحال، بےوقوفی کے وقوف کا ظہور قریب ہے

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.