پوسٹ – 2021-07-11

ناراضگی سے لتھڑی ان خاموشیوں میں، مانو جیسے آنکھیں اگ آئیں تھیں، جن کی ہر پتلی میں، بستا، اس کا عکس، مری چربیلی انا پہ قہقہے تھوکتا تھا،
اور میری انا ؟
اس کے ہجر کی قساوتوں سے اٹی پڑی، پلی بڑھی، میری اناپہ، اس کی دید میں سرمست قہقہہ، اس کا حقارت آمیز قہقہ،
میری انا پہ، بس ایک چٹکلا ، بن کر برستا تھا، جیسے کوئی،البیلی سی مکھی، مکڑے کو گدگدا رہی ہو، جیسے بظاہر نیم جان مکڑے کی، بے حسی نے، مکھی کو، تار عنکبوت پہ مکمل اختیار بخش دیا ہو، وہ ملوکڑی مکھی کیسے جان سکتی تھی، کہ، اس کی حقارت، اس کے قہقہے، اس کا اختیار، جلد تار عنکبوت کا رزق بننے والا ہے۔۔۔ پھر نہ وہ رہے گی، نہ اس کی دید کسی کی آنکھوں کو ڈسے گی، اور ان کسی کی پتلیوں پہ اس کی یاد کے قہقہے ثبت ہوں گے۔۔۔
کہاں گم ہوگئے، ارباز بابو، یہ میری ہی ڈائری کےچند اوراق ہیں، nجو میں نے اس وقت بنے تھے، nجب میں،ایک گھریلو عورت سے جسم فروش بھکارن نہیں بنی تھی۔nn- سبزی منڈی کی بھکارن سے اقتباس

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.