چور کی سزا ،ٹیگور کے سرnnضروری اعلان : لفظ ٹیگور سے مت سمجھا جائے کہ ٹیگور گھول کے پی لیا ہے ۔۔ وہ تو چور کے ساتھ قافیہ اچھا بیٹھ رہا تھا تو استعمال کر لیا۔۔ زیادہ سنجیدہ نہیں لینا ٹیگور کی تکرار کو۔۔
کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ۔۔بات کہاں سے شرو ع کی جائے ۔۔ مدعا کس چیز کو بنا یا جائے ۔۔ کس موضوع پر لکھا جائے ۔۔ موضوعات کی زیادتی بھی ایک طرح سے جبری زیادتی ہے ، سمجھ نہیں آتا کہ کس کو پکڑا جائے کس کو چھوڑا جائے یہی ہو رہا تھا، قلم رو رہا تھا ، آنسو بہہ بہہ کر پانی کا بہاو روک رہے تھے ، دہانہ بند ہونے کو تھا لکھنے کے لیے فیلنگ موجود تھی ، ماحول بھی تھا لیکن کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ الفاظ اتنے زیادہ ہو رہے تھے کہ پکڑ میں نہیں آرہے تھے ، موضوعات اتنے وافر تھے کے سستے ہوگئے تھے ، وافر ، سستا اور معیاری ، کیسا ایسا ممکن ہے ؟ اس نے سوچا ۔۔۔ کنزیومرازم کے اس دور میں تو نہیں ۔ اس نے سر جھٹکا اور ٹب میں پانی بھرنے لگا ، پانی ختم ہونے سے پہلے پہلے وہ رابندر ناتھ ٹیگور کو چن چکا تھا۔۔ ٹیگور سے کسی نے پوچھا تھا کہ تم نے لکھنا کیسے سیکھا۔۔ اس کا خیال ہے کہ ٹیگور کا جواب کچھ ایسا ہوگا۔۔n”دیکھ بھائی یہ کیسے لکھنے کا مسئلہ نہیں ہوتا۔ یہ فیلنگ گاڈ گفٹڈ ہوتی ہے ۔۔ کبھی بھی کہیں بھی آجاتی ہے ۔۔ لیکن یہ جو ۔۔ کیا لکھنا ہے نا ۔۔ یعنی کس موضوع کو چٹکی بھرنی ہے مسئلہ یہاں ہوتا ہے ۔تو مسئلہ یہیں تھا۔۔ بس ایک دن گھر اسے نکلا اور اسی سوچ میں گم صم اپنی گلی کے نکڑ تک چلا گیا۔۔ تو پتہ چلا کہ موضوعا ت تو گلی کے کونے کونے پر بکھرے پڑے ہیں “۔۔
اس طرح “کیا لکھوں “والا مسئلہ بھی حل ہوگیا۔۔لوٹے میں سے پانی بہہ رہا تھا۔ اس پر ٹیگور کا چہر ہ ا ہلکورےلے رہاتھا۔۔ اس لیے کہ لوٹے کا پیندہ اور پیٹ دونوں صاف ترین ہوتے ہیں ۔ ہر وقت پانی جو پڑا رہتا ہے ۔۔ اب اس سے آپ وضو کریں یا استنجا یہ آپ کا مسئلہ ہے ۔۔ بہرحال ، لوٹے اور ٹیگور میں سے انتخاب مشکل ہو رہا تھا۔۔ جیت لوٹے کی ہوئی ۔ٹیگور تو گلی کے کونے پر کھڑا موضوعات چن رہا تھا اور یہاں یہ سوچ رہا تھا کہ فیلنگ کیوں نہیں آرہی ۔۔ کیسے آتی ؟ کبھی خالی لوٹ کی چونچ سے کچھ نکلا ہے ؟ لوٹا خالی ہونے کے لیے پہلے اس کا بھرنا ضروری ہے ۔ ٹیگور طنزیہ ہنسی ہنسے لگا۔۔ “ہنہ فیلنگ۔ کہاں سے آئے گی فیلنگ ؟ کیسے آئی گی ؟ کیوں آئے گی ۔۔ تیرے بدن پر کپڑے اتنے ہیں ۔۔ پیٹ میں کھانا بھرا فضلہ بننے کا انتظار کر رہا ہے ۔۔ لوٹا خالی ہے ۔۔ کیا لکھنا ہے یہ چھوڑ یہ سوچ کیسے لکھنا ہے ۔۔ کیسے لکھنا ہے ؟ یہ تو فیلنگ سے آئے گا ۔ اس کی کوئی ٹپ نہیں کوئی تدبیر نہیں ۔ یہ صرف تقدیر ہے ۔۔مانگ اس سے ۔۔ لے اس سے ، نخرہ کر یا شکوہ۔۔ وہ دے گا تو تو لکھے گا۔۔ بلکہ چھوڑ ۔۔ لمبا چکر ہے ۔ شارٹ کٹ سن ۔ تو یہ اپنے اندر والے رائٹر کو قتل کر دے ۔۔ مار دے ۔۔ جلا یا دفنا ، کفنا یا گنگا میں بہا۔۔ جو کرنا ہے کر ۔۔ اسے خالی کر ، اندر اتنا کچھ بھرا ہے ۔۔ کہ باہر سے کچھ نہیں آسکتا ۔۔ بھول جا کہ تجھے کچھ آتا ہے ۔۔ چھوٹا بچہ بن جا۔ دماغ خالی کر۔۔ کیسے ؟ ارے ایسے کہ تو جاہل ہے ان پڑھ ہے کچھ نہیں آتا۔ بچہ بھی بلک بلک کر نہ روئے تو ماں دوددھ نہیں دیتی ، تو ستر ماوں سے زیادہ پیار کرنے والا جو بے نیاز بھی ہے وہ کیوں دے دے گا تجھے ۔۔ جب کہ تو خود کہتا ہے تو لکھاری ہے ۔ ابے تو نہیں ہے ۔۔ نفی کر اثبات پاجا۔۔زیر ہوجا۔۔زیر بھی تو مائنس جیسا ہوتا ہے ۔۔”nٹیگور یہ سب کہہ کر ہانپنے لگا۔۔ گلی کے نکڑ پر کھڑا موضوع دیکھنے لگا۔ فیلنگ کسی بھی طرح خو د سے نہیں آسکتی ۔۔ لیکن ایک کام ہو سکتا ہے ۔۔ احساس کو یہ محسوس کرواو کہ تم کو اس کا احساس ہے ۔۔ تم اس احساس کو محسوس کرنا چاہتے ہو۔۔ اس سے بھی کچھ نہیں ہونے والا۔ لیکن احساس کو احساس ضرور ہوجائے گا کہ احساس کی ضرورت کا احساس اب جاگ رہا ہے ۔ ہاں ایک نسخہ یہ ہو سکتا ہے ۔۔ جو پسند ہے اس کو پڑھ۔۔ دس سے پندرہ صحفے پڑھ۔۔ جیسے جسے پڑھے گا۔۔ اندر کا لکھاری مرتا جائے گا۔ جیسے جیسے اندر کا لکھاری مرتا جائے گا۔۔ جگہ خالی ہوتی جائے گی۔۔ جب جب خلوت ہوگی ۔۔ احساس کا جلوہ جاگے گا۔۔ اور موضوعات کے ہجوم میں سے دو چار سر تم بھی قلم زد کر لینا کوشش کر کے دیکھ۔۔ نہ ہو تو جو چور کی سزا وہ ٹیگور کے سر ۔۔nnمارچ اکیس دوہزار سولہ
پوسٹ – 2021-07-06
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد