پوسٹ – 2021-06-26

ردعمل کا شکار ذہنیت سے چھٹکارا کیسے پائیں ۔nnکمیونی کیشن یعنی ، عام بول چال ، گفتگو ، ابلاغ ، اس کا ایک بہت بنیادی تقاضا ہے، کسی بھی بات کا جواب ، ایسا دینا کہ ، اس میں ، ردعمل ، کی آنچ نہ ہو ، بلکہ ، بردباری ، متانت ، اور جامعیت کا تڑکا ہو — n(اور یہ بات دیکھو ، کہہ کون رہا ہے– لول )nخیر ، تو اب ، ردعمل والی ذہنیت سے بچنے کا ایک بنیادی ، سادہ ترین اصول ، ایک جملہ ہے ، آپ کو پتا ہو کہ ، مخاطب نے ، شعوری /لاشعوری طور پر ، گفتگو کے دوران ، آپ کی باونڈری کو ہٹ کردیا ہے ، اور اب آپ کے دماغ میں ، ردعمل والا جواب جنم لے رہا ہے – nتو بس اسی وقت، ایسی سوچوں کے مخالف جا کر ، nیہ جملہ کہہ دیں nمجھے نہیں معلوم ، اس بات کو کیسے ایڈریس کروں ، یعنی I do not know , how to respond to that .nخواہ آپ کو اچھی طرح سے پتا ہو کہ ، اس کو کیسے جواب دینا ہے ۔ تب بھی یہی جواب دیں ۔
یہ مشکل ہے ، کیوں کہ ، کیفیت غلبہ پا رہی ہوتی ہے ، لیکن ،کوشش کر کے اپلائی کیا جاسکتا ہے ، کچھ دن پرابلم ہوگی ، پر ، یہ پریکٹس کچھ وقت کریں ، ردعمل والی ذہنیت ، کم از کم ، گفتگو کے معاملے میں ، ختم ہوجائے گی –nاور آپ بہت سے ذہنی اتنشار، فرسٹریشن ، منفیت ، اور لوگوں کی اشتعال انگیزی کو ، ڈی فیوز کرنے کے قابل ہوجائیں گے ۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.