ریپ ، درحقیقت ، طاقت نہیں ، کمزوری کا اظہار ہے ، رے پسٹ در اصل یہ باور کروا رہا ہوتا ہے کہ nدیکھو میں اتنا ہلکا ہوں ، اتنا کمزور ہوں ، اتنا نیچ ہوں کہ ، میں عورت کو خود پہ مائل نہیں کرسکا، مجھ میں کوئی خوبی نہیں ، نہ ہی مجھ میں شخصی بہتری کا کوئِی فیکٹر ہے ، نہ کسی قسم کی کشش میرے وجود سے وابستہ ہے ، خواہ ظاہری ہو یا باطنی ، اور مجھے زبردستی اس کا جسم حاصل کرنا پڑرہا ہے “nnریپ کا عمل دراصل ، اس کی سوکالڈ مردانگی پہ لعنت ہے

اترك رد