پوسٹ – 2021-06-13

خود پسند کا شکنجہ – Narcissistic Personality Disorder – NPD nnپینتیس ویں قسطnnگزشتہ اقساط میں ، جو مسائل جذباتی استحصال کرنے والے کے بیان کئے گئے ، ، اور جو باتیں این پی ڈی کا شکار ، فرد بارے بتائیں گئیں ، اس سے ،
ایک بات تو ثابت ہوتی ہے کہ جذباتی بلیک میلر افراد بھی طویل المدتی/ طویل المعیاد تعلقات میں اچھے افراد ثابت نہیں ہوتے اور آ پ کے ذہنی صحت کو تباہ کرکے رکھ دیں گے ، یاتعلق کو زہریلا کریں گے
کیاپھر، شادی سے پہلے میل جول کے ذریعے پتا چلایا جائے nنہیں ، ہر گز نہیں – یہ ہے کلیئرکٹ جواب nوجہ ؟ کیوں کہ ، شادی سے پہلے کے تعلقات میں ، سیلیری فگر اور جسم کے فگر سے زیادہ کی سوچ نہیں ہوتی اور پھر ، گوشت کی طلب ، محبت بن کر سوار ہوئی ہوتی ہے ، اس لیے میل جول کر بھی لو تو کچھ نہیں اکھاڑ سکتے ، nاب آتے ہیں دوسرے پہلوپہ کہ پھر کیسے پتا چلے ۔
تو nبات یہ ہے کہ پاکستان کے مذہبی بلکہ یوں کہنا چاہئے مذہبی منافقت کلچر میں شادی سے پہلے لڑکا لڑکی کی ملنے کا کوئی تصور نہیں ہے لیکن سر پر سے کوئی بھی ہو سکتا ہے وہ آپ کا ٹیچر بھی ہو سکتا ہے آپ کا بھائی بھی ہو سکتا ہے آپ کی بہن نیو سکتی ہیں وہ خود بھی ہو سکتا ہے وہ آپ کے رشتہ دار بھی ہو سکتے ہیں لیکن اگر بات کی جائے شادی شدہ جوڑوں کی تو اس سے پہلی پاکستان میں شادی سے پہلے ملنے ملانے کا رواج نہیں ہے یہ ضرور ہے کہ وہ سب کچھ ہوتا ہے
لیکن اپنے آپ کو دھوکہ دینا اچھا لگتا ہے کہ جی ہم بڑے روایتوں اور رسومات کو پابند کرنے والے ہیں ہمارے یہاں شادی سے پہلے لڑکا لڑکی کا روشن کرنا اچھی بات نہیں چاہے وہ دونوں کر رہے ہیں لیکن ذرا سنبھل اچھی بات ہوتی ہے، جب کہ اس مخفی قسم کے متعفن اور غلیظ معاشرے کی بو ، ان کے “مذہبی “ چہرے کو ، رسوا اس طرح کررہی ہے کہ ، nمیڈیکل اسٹور والوں کے اعداد و شمار کے مطابق ،اس مذہبی اسلامی مدینہ ریاست میں ، کنڈوم کے سب سے زیادہ خریدار، “ٹین ایجرز” ہیں ، nاس کا الزام ، اس معاشرے کا منافق ترین طقبہ ، یعنی مذہبی طبقہ ، لبرلز پہ ڈالتا ہے ، کیوں کہ ، بلیم گیم ، بہرحال ، ضروری ہے ، ذمے داری سے نظرچھڑانی ہے ۔
بہرحال لبرلز ازم اور فحاشی نے بھی اپنا کردار ادا کیا ہے ، پر اس نے تو کرنا ہی تھا ، وہ تو آیا ہی اس کام کے لیے تھا ، nتم کیا کررہے تھے ؟ فتوی فروشی کے علاوہ ، اب کم از کم اپنی ذلت کو اون تو کرو، –nخیر تو ایسے معاشرے میں nجہاں اسکول کالج ، یونی ورسٹی اور آفسز میں ، جہاں ڈیٹنگ کلچر نمایاں ہے nتو کوئی یہ کہے کہ پری میریج ریلیشن شپ کو فروغ دیا جا رہا تو وہ ، وہی ہے جو اوپر کہا nاس لیے بس اتنا کہا جارہا ہے کہ ، مزے لینے کے لیے مل تو رہے ہوجو کہ غلط کررہے ہو ، لیکن چلو آفسز وغیرہ میں ہی سہی ، ااس، چول سی محبت بھرے تعلق میں ،پارٹنر کا مزاج nبھی ٹیسٹ کرلو nرات کو “آج کی پہنا ہے “ بھی تو پوچھتے ہو نا ، nتھانا تھایا والی حرکت بھی کرتے ہو نا
جو کہ عارضی کیوٹ نیس ہے ، اصل گیم ہے شادی ، ساری زندگی کا ساتھ ، اس کے لیے اگر تم پارٹنر کا مزاج نہیں جانتے تو زیر جاموں کے رنگ کسی سے بھی پوچھ سکتے ہو، ، اور ۔
تھانا تو کوئی بھی تھلا ہی دے گا nخیر یہ آپ کی مرضی ہے کہ ، آپ نے شادی سے پہلے کیسےدیکھنا ہے کہ ، آپ کا پارٹنر نارسسٹ ہےیا نہیں ،
کیونکہ زیادہ تر افراد شادی سے پہلےہی انوالو ہوتے ہیں منگنی کے بعد، مزید انوالو ہوتے ہیں، یونی میں ، آفس میں ، انوالو ہونا ، ضروری نہیں فزیکلی ، بلکہ انٹرایکشن کے سینس میں ، خیر، فزیکلی بھی کافی عام ہے اب تو ، کوئ مذہبی بلیک میلر نہ مانے تو الگ بات ہے خیر ، اب یہ انوالمنٹ ، کسی کام تو آئے ، کم از کم اپنے پارٹر میں یہ نشانیاں بھی چیک کی جا سکتی ہیں اور اس کے بعد اگر منگنی توڑنے کی نوبت آئے یا اس سے پہلے رشتہ ختم کرنے کی نوبت آئی تو ختم کرڈالیں کیوں کہ ، اگر آ پ کا پارٹنر ، نارسسٹ ہے تو ، بدنامی کی پروا کیے بغیر چھوڑ دین ، ورنہ شخص آپ کی زندگی کا عذاب بن جائے گا۔nn- جاری ہے

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.