پوسٹ – 2021-06-06

سید عبدالرشید کے نکاح والے بل سے بہت سے جماعتی بلبلاتے ہوئے باہر آئے ہیں ، nکوئی سوشیالجی پڑھا رہا ہے، کوئی اکنامکس کا ابو بنا ہوا ہے ، کوئی حسب معمول مذہب فروشی کررہا ہے nبہت سی باتیِں ، کر کے کہانیاں کروا کے ، بل کی مخالفت کررہے ہیں nلیکن اصل بات پر نہیں آرہے کہ ، نکاح میں آسانی ، اور مستعدی پہ کیا کیا جانا چاہئے ؟
وجہ ؟ nوجہ یہ ہے کہ ، ڈسکشن /جمہوریت زدے / ہر بات کو ، “رائے” کا رائیتہ بنانے کے نفسیاتی مرض کا شکار افراد کی
جان اس لیے نکل رہی ہے ، nکارکن کو ، کم عمری میں ، بستر کے مز ےمل گئے وہ بھی حلال میں ، تو ان کی دکان کا مال کون بیچے گا
چودہ سے اکیس سال آئیڈیل ایج ہوتی ہے ، کارکن گھیر اسے چونا لگا کر، مجاہد بنانے کی nوہ ہاتھ سے نکل گئء تو n”ماہنامہ ساتھی ” یا “اچھے ساتھی” کے بجائے ، محض ساتھی کو فوقیت دے گا وہ کارکن nاور یہ لوگ ثانوی ہوجائیں گے “nاب کوئی اپنی دکان پر لات پڑتا کیسے دیکھ سکتا ہے ۔۔ ؟

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.