پوسٹ – 2021-05-31

رائٹرز ورکشاپ میں ہونے والے مکالمے کی ایک جھلک۔nnبچوں کا ادب، کہانی کاری کی ، مشکل ترین اصناف میں سے ہے، وہ افراد جو اس طرف آنا چاہتے ہیں، انہیں چاہئے کہ، اپنے بچپن کی شرارتوں کو قلم بند کرنے سے آغاز کریںnnتو یہ کام تم خود کیوں نہیں کرتے ؟
کون سا ؟ بچوں کے لیے، لکھنے والا ؟
ہاں۔۔
بھائی بچپن میں ایک بار، موٹے اور شدید کالےچیونٹے، nانتہائی قابل اعتراض جگہ پہ کاٹ لیا تھا، اس کا انجام بہت بھیانک ہوا تھا
کس کا، مقام کا ؟
ابے نہیں بروسلی کے، چیونٹے کا۔
کیا ہوا تھا ؟
اس کا سر بلیڈ سے کاٹا تھا، اور اس کے آخری بار کھلتے ڈنگ جو یقیناً ، بہت ہی درد ناک انفراسانک چیخ کے نتیجے میں کھلے ہونگے انہیں ںند ہونے سے پہلے، اس کی تشریف (جو بعد میں سمجھ آیا کہ پیٹ ہوتا ہے)nپہ چپکا دیا تھا
مطلب، تم نے اس کا سر کاٹ کے، اس کےپیچھے ہی ایڈجسٹ کردیا۔ nہاں،
اور کتنی عمر ہوگی تیری اس وقت
یار شاید، چھٹی کلاس میں تھا، تقریباً، گیارہ بارہ سال کا
اور تو نے اپنے ںچپن پلس لڑکپن میں یہ کیا تھا
ہاں۔
اور کوئی، کارنامہ ؟
ٹڈے کی ایک لات توڑ کر، لال چیونٹیوں کے بل میں زندہ پھینک کر، خود کو، چیونٹیوں کا مددگار سمجھنا
اور ؟
کن کھجورے کو بیچ میں سے توڑ کر، اس کی لیس دار محلول جیسی آنت سے جڑے باقی ماندہ جسم کو
گدھا گاڑی کی شکل دے کر، چیونٹے سے ریس کروانا۔nnبس بس بس nبھائی، آپ کا بہت شکریہ آپ بچوں کا ادب نہیں لکھتے۔۔nnنوٹ : افففف کیسے کیسے نفیساتی افراد رائٹرز بنے بیٹھے ہیں، میں تو سن کر ہی ڈپریشن میں چلا گیا، آج میرا یونی کارن یا ٹیڈی بئیر ہوتا تو میں ڈرتا نہیں،
اج کوئی میرے ساتھ رات گزار لے، سائکیو تھراپی کردے کوئی، اٹھارہ سے اڑتیس سال کی ماہر نفسیاتینی، میں ڈپریس ہوگیا ہوں ،یہ سب سن کر، میرے مساموں سے، ٹراماز پھوٹ رہے ہیں۔۔nn- کمین کہانیاں سے اقتباس

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.