کسی بھی طرح کا جذباتی استحصال، انسانی دماغ کو سکیڑ دیتا ہے، nسوچنے سمجھنے ، غور و فکر اور تدبر کی راہیں تباہ کردیتا ہےnnشروع کریں، پہلا استحصال nیہ ملک اسلام کے نام پہ حاصل ہوا ہے سے ریاست مدینہ تک nبلکہ یہ بھی چھوڑیں، nگھر سے شروع کریں، استحصال کی اقسام، اور کون کون کس کس کا کس کس طرح کرتا رہا ہے ، اسلام کے نام پہ ، رشتے کے نام پہ ، امت کے نام پہ۔۔
اور آجائیں بلوغت تک یعنی بیس اکیس سال تک، جب اپ گریجویٹ ہو کر، دنیا میں جارہے ہوتے ہیں،
کیا غور و فکر تدبر بچتا ہوگا آپ میں ؟
پوسٹ – 2021-05-27
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد