خود پسند کا شکنجہ – Narcissistic Personality Disorder – NPDnnانتیس ویں قسطnnجب بات نارسسزم کی ہو تو ، بلیم شفٹنگ / وکٹم بلیمنگ ایسا ہی ہے ، جیسے ، کسی کے ساتھ جبری زیادتی کی گئی ہو ، اور اس کا الزام ، بجائے ، رے پسٹ کے ، متاثرہ فرد پہ لگایا جا رہا ہوnnاس کے ساتھ ساتھ ، سماج/معاشرے کے اس قماش، جس کا تذکرہ گزشتہ قسط میں کیا گیا ، وہ افراد، ایک طور طریقے سے بھی ، وکٹ٘م بلیمنگ کرتے ہیں ، اور وہ ہوتی ہے کچھ اس طرح nلگتا ہے ، تم خود بھی نارسسٹ ہو ،اسی لیے بار بار اسی طرح کا شخص تمھیں ٹکرتا ہے ، جو زندگی کو زہر کرتا ہے nایسے افراد یہ نہیں جانتے کہ ، nنارسسٹ کی زندگی کا ڈراونا خواب ہوتا ہے ، اس جیسا دوسرا شخص ۔ وہ کبھی بھی ایسے شخص سے قربت اختیار نہیں کرتا، جو اسے ، اپنے جیسا محسوس ہوتا ہے nجو شخص ان کی طرح ، ہمدردی ، احساسات، شفقت سے عاری ہوتا ہے ، وہ اس کے ساتھ کی خواہش نہیں رکھتے nکیوں کہ ، پھر نارسسٹ اپنی اذیت پسندی کو لطف کیسے دے گا ، اس میں مزا کیسے لے گا nانہیں ، کوئی ، ایسا درکار ہوتا ہے ، جس کی انہیں معلومات ہوں ، جو ان کا ہمدرد ہو ، نرم خو ہو، شفقت لگاوٹ برتے nاس کی معلومات سے ، وہ صورتحال اپنے حق میں کرسکے ، گواہان کو یہ باور کروا کرسکے کہ یہ شکار کا فالٹ ہے nنارسسٹ، ذہین اور ٹیلنٹڈ، شخصی بہتری کے نمونہ افراد پر مائل ہوتے ہیں ، nانہیں کچھ “خاص” منفرد، درکار ہوتا ہے ، کوئی ، بہت ہی ، بہترین خوبیوں کا چاہئے ہوتا ہے nتاکہ ، یہ اس سے حسد کی بیماری کا شکار ہو کر، انہی ، خوبیوں کو تہہ و بالا کرسکیں ، ظاہر ہے ، کوئی اچھی فطرت، اسکل ، صلاحیت ہوگی ، تب ہی تو اسے زہریلا کرسکے گا ، nاب بھلا کوئی پہلے سے زہریلاہ و، یا کمزور فطرت ہو یا کچھ خاص ٹیلنٹ نہ ہو ، تو نارسسٹ اس کے ساتھ تعلق بنا کر، کیا کرے گا ، کوالٹی موجود ہوگی ، تب ہی برباد کرے گا نا۔
نظر انداز شدہ بچے ، ،ایسے افراد کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں ، کہ وہ محبت نرمی کا نمونہ ہوتے ہیں اور ان کی نرم فطرت انہیں نارسسٹ کی طرف مائل کرتی ہے nپر اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ کسی کو ان کا استحصال کرنے کا حق مل گیا ہے nیا وہ استحصال / اذیت پسند ہیں اور یہ سب دوبارہ چاہتے ہیں nکوئی بھی ٹیلنٹڈ/باصلاحیت ، نرم خو شخص ، NPD کے مریض کا شکار بن سکتا ہے nتو کسی بھی ، پڑھے لکھے جاہل یا پاکستانی مذہب فروش منافق کو یہ کہنے کا موقع مت دیں کہ، آپ ابیوز ہوئے آپ کا ہی فالٹ ہے nکیوں کہ Narcissistic Abuse صرف اور صرف اسی کا فالٹ ہے جس نے کیا ہوnnوقت آگیا ہے ، شکار پر فوکس کرنے کے بجائے ، شکاریوں کو لگام ڈالنی ہوگی nnیہ ہوتے ہیں اصل مریض ، بلکہ مرض ، نہ کہ وہ جو ان سے پیار تلاش رہا ہو ۔ nکسی کو حق نہیں ، کسی کا استحصال کرنے کا ، اپنے تعلقات پر نظر ثانی کیجئے ، شخصی بہتری کے لیے ، حد فاصل کھینچئے ، یعنی سرحد بنائیے
ایک بہتر زندگی آپ کی منتظر ہے nnاگلی یعنی تیس ویں قسط میں ، nاس خود پسندی کے ذہنی عارضے کا شکار فرد کا ، خوشنما ، مذہبی اور جعلی اخلاقیات سے لتھڑا نقاب نوچا جائے گا nپھر ہم بڑھیں گے ، اس سلسلے کے آخری مضمون nنارسسٹ کا اگلا شکار
کی طرفnn-جاری ہے
پوسٹ – 2021-05-22
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد