پوسٹ – 2021-05-17

خود پسند کا شکنجہ – Narcissistic Personality Disorder – NPDnnچھبیس ویں قسطnnکیا خود پسندی کے ذہنی عارضے کا شکار، نرمی کا حقدار ہے ؟nnخود پسندی / نرگسیت کے ذہنی عارضے یعنی narcissistic personality disorder، کا شکار شخص پہ رحم کھانے کا ، اس سے ہمدردی جتانے سے پہلے، ایک بار یہ ضرور سمجھ لیں کہ، nایک عادی نشئی جس کی زندگی کا ہر معاملہ/ رویہ/مزاج، شراب /الکوحل پہ منحصر ہو کر رہ گیا ہو،
اس عادی نشئی اور ایسا narcissistic abuser ، جو شراب/الکوحول یا کسی اور طرح کے نشے /منشیات کے پیچھے چھپتا ہے ان دونوں اشخاص میں بہت فرق ہے، یعنی ، جذباتی استحصال، نفسیاتی ٹارچر ، کرنا، نارسسٹک پرسنالٹی ڈس آرڈر کا شکارفرد کے لیے، اس کی بقا کا سبب ہے، اب اگر کوئی ایسا شخص شراب بھی پیتا ہو، اور لوگ یہ سمجھیں، یا وہ یہ باور کروایے، کہ شراب چھڑوا دو ، صحیح ہوجائے گا، تو یہ بھی اس کے ساتھ ہمدردی کرنے جیسا ہے، اسے کور مہیا کرنے کے برابر ہے،
کیسے ؟
کیوں کہ، وہ نفسیاتی ٹارچر/جذباتی استحصال/ گیس لائٹنگ، وغیرہ اس لیے نہیں کرتا کہ ، شرابی ہے، بلکہ وہ ، شراب اس لیے پیتا ہے کہ وہ یہ سب کرتا ہے، اور اس کے نشے کی عادت نے اس کا اصل چہرہ جو اوپر بیان کیا چھپا رکھا ہے، نشئی ہونا بھی ، اس کے بہت سے نقابوں میں سےایک نقاب ہے۔ تاکہ اس کی شخصیت کی اصل ہولناکی چھپی رہے، اور لوگ اسے منشیات کا مارجن دے کر ، اس کے کرتوتوں کا احتساب کرنے کا مت سوچیں۔nn ایسے بہت سے شرابی/نشئی/بلانوش ملیں گے، جو اپنے نشے میں، دوسرے کو emtional abuse ، نہیں کرتے ، ٹھیک ہے جو لوگ alcoholic ،ہیں نشے کی لت میں پڑ گئے ہیں انہیں یقینا ہمدردی، مدداوراس لت سے نکلنے کے کیے، جذباتی نفسیاتی سہاری ضروری ہوتا ہے، nپر اکثر ، لوگ نشے میں دھت ہو کر، جذباتی استحصال، نفسیاتی تشدد ، میں ملوث ہوجاتے ہیں ، کیوں کہ وہ ،اپنی اس مکروہ خصلت ، کو چھپانے کے لیے، نشے کا سہارا لیتے ہیں، تاکہ انہیں مورد الزام نہ ٹھرایا جاسکے، بلکہ سارا مدعا ، شراب پہ ڈال دیا جائے nnایسے افراد شراب کے نشے میں ہوں یا مکمل ہوش میں ان کا یہ جذباتی ٹارچر جاری و ساری رہتا ہے، آپ شاید اس؛غلط فہمی میں ہوں، کہ آپ ان کے نشے کی عادت چھڑوا کر،ان کے اندر ،ہمدردی نرمی، مروت اور دوسروں کا خیال کرنے کا احساس بھی بھر دیں گے ،تو یہ آپ کی خام خیالی ہے، آپ شاید ان ، nnarcissistic personality disoder nکا شکار افراد کی،
کی شراب پینے یا ، ڈرگ کرنے، کی عادت تو چھڑوا دیں گے، لیکن بہرحال، اس کے اندر emtpahy، یعنی دوسروں کا احساس کرنے، اس کی تکلیف کو محسوس کرنے، کی حس نہیں جگا سکتے۔nn فری بڑا نقصان دہ ثابت ہوتا ہے ان کے شکار کے لئے جو کہ یہ سوچ کر ان کے ساتھ رشتہ اور تعلق بنائے رکھتا ہے کہ یہ تو بیچارے شرابی ہیں مجبور ہیں
اگر ان کی یہ عادت چھوٹ جاہے تو شاید یہ انسان کے بچے بن جائیں، اس چکر میں، وہ اپنے وجود/روح/نفسیات/ ذہنی صحت، میں میخیں ٹھکواتے رہتے ہیں۔
آپ کو بہت زیادہ سوچ سمجھ کر سب مل کر چلنے کی ضرورت ہے اگر آپ، کسی بھی اس طرح کے شخص ، سے رشتے تعلق، میں ہیں یا بنانے جا رہے ہیں، جو کہ ، اپنے اندرnnarcissistic abusernوالی علامتیں رکھتا ہو، ساتھ ہی نشئ بھی ہو،n خصوصاّ اگر وہ علاج کی طرف مائل نہ ہو تو
ہاں ان کی ضرورت حوصلہ افزائی ہونی چاہیے جن کے اندر اس طرح کی نشانیاں ہو اور وہ علاج کی طرف بھی مائل ہو جس طرح پہلے بتایا گیا کہ یہ بیماری ایک رینج ہے ایک سپیکٹرم ہے ہے ایسے افراد اس میں بہت آغاز میں ہوتے ہیں ان کو قابو کیا جا سکتا ہے
لیکن بہت سے، انتہا کو پہنچے ہوئے، narcissistic abusers، مکمل طور پر، انسانی حسیات سے عاری ہو چکے ہوتےہیں،اور وہ علاج کی طرف مائل نہیں ہوتے،nn- جاری ہے

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.